خطبات محمود (جلد 35) — Page 60
$1954 60 خطبات محمود بالکل بیچ نظر آتی ہے۔اگر ہمارے سامنے خدا تعالیٰ کے وعدے نہ ہوں تو انہیں دیکھ کر ہمیں ی مایوسی ہوتی ہے کہ اُن حالات میں ہم اُن کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ان کے عورت، مردی اور بچے سب کام میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔اُن کے دلوں میں امنگیں پائی جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی شخص نہیں چاہتا کہ وہ اپنے مقام پر ہمیشہ کھڑا رہے۔یا ہمارے ملک کے لوگوں کی طرح یہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اسے سہارا دے کر کھڑا کریں۔ہمارے ملک میں اگر کوئی شخص ذرا سی تکلیف میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے دائیں بائیں دیکھنے لگ جاتا ہے۔اور پھر اسلامی تعلیم کی کمی کی وجہ سے چونکہ مذہب کا مادہ کم ہو گیا ہے اس لیے وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنے نمونہ سے لوگوں کے اندر مدد کی تڑپ پیدا کرے بلکہ لوگوں کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کی کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرتے۔ہمارے ملک کی حالت ایسی ہو رہی ہے جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی سپاہی کسی سڑک سے گزر رہا تھا کہ اُس کے کان میں آواز آئی کہ میاں! ادھر آؤ، میاں! ادھر آؤ۔سڑک کے قریب ہی جنگل تھا جس سے آواز آ رہی تھی۔وہ سڑک چھوڑ کر جنگل کی طرف گیا اور اس نے ہے دیکھا کہ دو آدمی لیٹے ہوئے ہیں۔اُس نے اُن سے دریافت کیا کہ تم پر کیا مصیبت پڑی۔جس کی وجہ سے تم نے مجھے بلایا ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا یہاں اوپر کی بیری سے ایک بیر گر کر میرے سینہ پر آپڑا ہے تم یہ بیر اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔سپاہی کو غصہ آیا کہ اتنی چھوٹی سی بات کے لیے اسے تکلیف دی گئی ہے اور اس کا سفر خراب کیا گیا ہے۔چنانچہ سپاہی کی اُس سے ترشی سے پیش آیا اور اُس نے کہا تم بڑے بے حیا اور بے شرم ہو۔کیا تم خود بیر اُٹھائی کر منہ میں نہیں ڈال سکتے تھے؟ اس پر دوسرا شخص کہنے لگا میاں! جانے دو۔کیوں ناراض ہوتے ہو؟ اس شخص کی حالت ہی ایسی ہے۔ساری رات گتا میرا منہ چاہتا رہا لیکن اس کمبخت ا سے اتنا بھی نہیں ہوا کہ اسے ہمشت کرتا۔یہ بات سُن کر سپاہی بالکل مایوس ہو گیا اور اُس نے سمجھ لیا کہ انہیں کچھ کہنا بے فائدہ ہے۔چنانچہ وہ اپنے سفر پر چلا گیا۔ہمارے سارے ملک کی یہی حالت ہے۔ہر شخص یہ امید کرتا ہے کہ اُسے دوسرے لوگ اُٹھا ئیں۔اور اگر دوسرے لوگ اُسے نہیں اُٹھاتے تو اُسے اُن سے شکوہ ہوتا ہے۔