خطبات محمود (جلد 35) — Page 411
$1954 411 خطبات محمود پہنچے ہیں اُن میں گزشتہ سال کی نسبت کمی نہیں بلکہ زیادتی کی گئی ہے۔سوائے ایک جماعت کے کہ اُس کے نئے وعدے گزشتہ سال کے وعدوں کی نسبت کم ہیں۔یا تو اُس کے کچھ افراد ابھی ایسے ہیں جن سے وعدے نہیں لیے گئے یا اُس کے کچھ افراد وہاں سے تبدیل ہو گئے ہیں۔اس کے سوا جو وعدے میرے پاس آئے ہیں اُن میں گزشتہ سال کی نسبت زیادتی کی گئی ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ وعدوں میں کمی اس لحاظ سے نہیں کہ وعدہ کرنے والوں نے گزشتہ سال کی نسبت کم وعدے کیے ہیں بلکہ یہ کمی اس وجہ سے ہے کہ وعدے لینے میں سستی کی گئی ہے۔مثلاً جماعت احمدیہ کراچی ہے اُن کی طرف سے متواتر اِس مضمون کی تاریں آتی رہی ہیں کی کہ وہ اگلے سال کے وعدے بطور پیشگی وصول کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اُن کے اِس سال کے وعدوں کی فہرست مرکز میں نہیں آئی۔2 دسمبر کو اُن کی طرف سے تار آئی تھی کہ ہم وعدوں کی فہرست بہت جلد بھجوا رہے ہیں لیکن آج 17 تاریخ ہو چکی ہے اور ان کی طرف سے وہ فہرست ابھی تک وصول نہیں ہوئی۔یا تو وہ رستہ میں ضائع ہو گئی ہے یا انہوں نے تار تو دے دی لیکن بعد میں یہ سمجھا کہ چلو فہرست کو اور مکمل کر لیں۔اس طرح انہوں نے فہرست بھیجوانے میں سستی کر دی۔بہر حال یہ وقت آئندہ سال کے وعدے بطور پیشگی وصول کرنے کا نہیں بلکہ وعدے لینے کا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی جماعت وعدے وصول نہ کرے۔اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو پیشگی دینے کی توفیق دی ہے اور وہ خوشی سے دیتا ہے تو دے اور کارکن ضمنی طور پر ایسا کرنے کی تحریک کرتے رہیں لیکن اُن کی زیادہ تر توجہ وعدے لینے کی طرف ہونی چاہیے۔جماعت جس کام میں لگی ہوئی ہو خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی اُس کام میں مدد دیتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں اُس کی تحریک کرتے رہتے ہیں۔جب امام کی طرف سے وعدے لینے کا اعلان کی ہوا ہو تو خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی دوسرے کاموں کی نسبت اُسی کام میں زیادہ مدد کرتے ہیں۔پس چاہیے کہ گزشتہ سال کے وعدے وصول کرنے اور آئندہ سال کے لیے وعدے لینے پر زور دیا جائے۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ گزشتہ سال کے وعدوں میں سے ابھی تک ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ کی وصولی باقی ہے۔اگر یہ وعدے وقت پر وصول ہو جاتے تو اس وقت