خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 382

$1954 382 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو آپ نے دعوی کیا تو سارے لوگ آپ کے خلاف کھڑے ہو گئے لیکن ہم تمہاری کتابوں اور رسالوں کی تردید بھی نہیں کرتے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ تمہارے ساتھ خدا تعالیٰ نہیں۔لوگ کہتے ہیں ہونہار پر وا کے چکنے چکنے پات جب کوئی تعلیم پھیلنے والی ہوتی ہے تو اس میں جامعیت پائی جاتی ہے اور لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اس تعلیم میں وہ خوبیاں موجود ہیں جو دوسرے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیں گی۔لیکن جس تعلیم میں یہ خوبیاں موجود نہ ہوں، اس میں جامعیت نہ پائی جاتی ہو تو لوگ سمجھتے ہیں یہ رڈی چیز ہے۔اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔فرض کرو ایک آدمی ایک انچ کی دیجی 6 اعلیٰ قسم کی ریشم کی لے آئے تو کیا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ وہ اس سے قمیص تیار کر لے گا۔اسی طرح اگر کوئی خاص مسئلہ لے کر کھڑا ہو جائے یا کسی اقتصادی نکتہ کے متعلق اپنی پیش کرے تو چاہے وہ کتنا ہی اعلیٰ ہو وہ مذہب نہیں کہلا سکتا۔اعلیٰ قسم کا مذہب وہی ہو سکتا ہے جس سے زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایت ملتی ہو۔اگر کوئی مذہب زندگی کے ہر شعبہ میں ہدایت نہیں دے سکتا تو لوگ اسے قبول نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق لوگوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ آپ کی باتیں مولویوں والی نہیں۔مولوی ایک بات کو لے لیتے ہیں اور اُس پر سارا زور لگا دیتے ہیں۔مثلاً بعض اس بات پر ہی سارا زور لگا دیں گے کہ کو ا حلال ہے یا نہیں۔اب اگر کو احلال ثابت ہو جائے اور لوگ اسے کھانا شروع کر دیں تب بھی اس سے کیا ہو گا۔لیکن آپ نے وہ تعلیم پیش کی جس میں زندگی کے ہر شعبہ میں ، ہدایت ملتی تھی۔آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کریم کے پیش فرمودہ اصول کو دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔اس لیے ہر شخص نے یہ سمجھ لیا کہ اب لوگ اس تعلیم کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔پہلوں کے پاس نہ دونیاں ہیں نہ چونیاں ہیں، نہ اٹھنیاں ہیں، نہ روپے اور نوٹ ہیں۔پھر انہیں صراف کیسے کہا جا سکتا ہے۔صراف کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس دونیاں، پوتیاں، اٹھنیاں اور روپے وغیرہ موجود ہوں۔اس کے پاس نوٹ ہوں اشرفیاں ہوں صرف چند پیسے پاس ہونے سے اسے صراف نہیں کہا جا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ