خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 381

$1954 381 خطبات محمود پھر جب خلافت میں تنزل آیا تو اُس کی گری ہوئی عمارت کو سنبھالنے والے معاویہ تھے۔لیکن آپ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری عمر میں ایمان لائے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی میں صرف اسی نوے آدمی آپ پر ایمان لائے تھے۔بعض کے نزدیک ان کی تعداد دو سو تین سو تک تھی۔اب دیکھو! ایک شخص جو تیرہ سال تک یہ دعوی کرتا رہا کہ وہ ساری دنیا کو فتح کر لے گا، وہ یہ اعلان کرتا رہا کہ اس کی جماعت آخر غالب آئے گی اور اُس کی پیش کردہ تعلیم دوسری سب تعلیموں پر غالب آئے گی اُس کی جماعت میں اگر تیرہ سال کے لمبے عرصہ میں دوسو یا تین سو آدمی داخل ہو گئے تو بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ یہ ایسی چیز نہیں جس کے ذریعہ دنیا کو فتح کیا جا سکے۔ہاں! ایک چیز ضرور تھی اور یہی انبیاء کی سچائی کی علامت ہوا کرتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ 5 یعنی جہاں ایک مسافر ایک ماہ میں پہنچ سکتا ہے وہاں تک خدا تعالیٰ نے میرا رعب پہنچا دیا ہے۔چنانچہ آپ کے ابتدائی تیرہ سالوں میں ہی آپ کی آواز حبشہ، نجد اور اردگرد کے علاقہ میں پہنچ گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی دیکھ لو آپ کے ماننے والے ابھی ابتدا میں پچاس ساٹھ ہی تھے لیکن سارے ہندوستان میں ایک شور مچ گیا تھا۔مکہ تک سے کفر کے فتوے آ گئے تھے۔حالانکہ کیا پڑی اور کیا پدی کا شور با۔آپ کے ماننے والے پچاس ساٹھ کی تعداد میں تھے۔اس سے گھبرانے کی کونسی وجہ تھی۔اس کی صرف ہی وجہ تھی کہ شیر کا بچہ پہلے دن بھی شیر کا بچہ ہوتا ہے اور بھیڑ کا بچہ سو سال کے بعد بھی بھیڑ کا ہی بچہ ہوتا ہے۔لوگوں کو اس قلیل جماعت میں بھی ایک شان نظر آتی تھی۔اس لیے دوسرے لوگ اس کے مخالف ہو گئے۔ایک دفعہ ایک مدعی نبوت نے مجھے لکھا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ میں نے آپ کو اتنے خطوط لکھے ہیں اور اتنے رسالے بھیجے ہیں لیکن آپ نے اُن کا کوئی جواب نہیں دیا۔آپ کم سے کم ان کی تردید تو کر دیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ مجھے مان لیں لیکن اس قدر تو کریں کہ ان کی تردید کر دیں۔میں نے سمجھا کہ اب اس خط کا جواب مجھے ضرور دینا چاہیے۔چنانچہ میں نے اُسے لکھا کہ یہ تردید بھی قسمت والوں کو میسر آتی