خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 361

$1954 361 خطبات محمود علاقہ احمدیوں کے سپر د بھی کیا گیا ہے اور وہاں چھ سکول کھولنے کے سلسلے میں حکومت نے امداد دی ہے اور یہ کہا ہے کہ آئندہ بھی تعلیم کے سلسلہ میں مدد دی جایا کرے گی۔اللہ تعالیٰ چاہے اور وہاں جماعتی نظام مکمل ہو جائے تو کچھ عرصہ کے بعد اس میں اور بھی ترقی ہو جائے گی کیونکہ وہاں کے مبلغین نے عقل سے کام لیا ہے اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ ملک کے فائدہ کو بھی مدنظر رکھا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے خوشامدی ہیں۔اب مغربی افریقہ کے تینوں ممالک میں جہاں ہمارے مشن قائم ہیں انگریزوں کی ہی حکومت ہے لیکن وہاں قومی تحریک میں احمدی پیش پیش ہیں بلکہ ایک ملک میں تو قومی تحریک کی مرکزی کمیٹی میں ہمارے مبلغ کو سیکرٹری بنا دیا گیا ہے اور ایک اجلاس میں اُسے صدر مقرر کیا گیا ہے حالانکہ وہ پنجابی ہے افریقہ کا رہنے والا نہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم پر انگریزوں کے ایجنٹ ہونے کا جو الزام لگایا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہے۔اگر اُسے اُن ممالک میں ہمیں ایجنٹ بنانے کی ضرورت نہیں تو اُسے ہمیں یہاں ایجنٹ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہاں احمدی قومی تحریکوں میں شامل ہوئے ہیں اور انہوں نے ملک کی خاطر بہت کام کیا ہے اور ملکی تحریکوں میں لیڈر بھی بنے ہیں اور مقامی لوگوں سے انہوں نے ہر قسم کی ہمدردی کی ہے۔ابھی حال ہی میں عراق کے ایک اخبار کے ایڈیٹر نے ایک مضمون شائع کیا ہے۔اُس میں اُس نے لکھا ہے کہ کسی غیر ملکی سفارت خانے کی طرف سے اسے کہا گیا کہ وہ احمدیوں کے خلاف مضامین لکھے اور یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ ب فلسطین کے بارہ میں امام جماعت احمدیہ کی طرف سے دو مضامین شائع ہوئے تھے۔اُس وقت میں نے کہا کہ میں یہ غداری نہیں کر سکتا۔اس پر مجھے کہا گیا کہ تمہیں پیسے نہیں ملیں گے۔میں نے کہا تم اپنے پیسے اپنے گھر رکھو میں اس کام سے بیزار ہوں۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہم انگریزوں کے ایجنٹ نہیں بلکہ وہ ہمیں پوری طرح کچلنے کے لیے تیار ہیں۔یہ دو ہے مثالیں نہایت واضح ہیں کہ مغربی افریقہ کے تین ممالک میں جہاں انگریزوں کی حکومت۔احمدی تحریک آزادی میں پیش پیش ہیں بلکہ ان میں ہمارے مبلغ بھی حصہ لے رہے ہیں اور وہ نہایت ذمہ داری کے عہدوں پر مقرر ہیں۔اب بھی انگریزوں نے ایک علاقہ کے بادشاہ کو