خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 333

خطبات محمود 333 $1954 ނ حکومت کے رازوں سے آگاہ کرتے ہیں حالانکہ واقع یہ ہے کہ گزشتہ عرصہ میں جتنی خبریں ہمیں غیر احمدیوں کی طرف سے ملی ہیں ان کا سواں حصہ بھی کبھی ظفر اللہ خاں کی طرف۔نہیں پہنچا۔اگر ایک مومن مخلص کی ترقی کا سوال نہ ہوتا تو شاید ہم اس بارہ میں یہ دعا کرنے سے بھی نہ ہچکچاتے کہ خدا تعالیٰ انہیں اس عہدہ سے ہٹا کر کسی اور کام پر لگا دے کیونکہ اس کی وجہ سے حکومت میں ہماری جماعت کی کوئی آواز نہیں رہی تھی۔گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں جب بھی کوئی ضروری امر پیش ہوتا تو حکومت کے افسران ہم سے ملتے اور ہماری رائے معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔لیکن جس دن سے محمد ظفر اللہ خان صاحب حکومت میں آ گئے انہوں نے ہمیں ملنا ترک کر دیا کہ آپ کا نمائندہ ظفر اللہ خان ہمارے پاس موجود ہے۔اور محمد ظفر اللہ خاں صاحب سمجھتے تھے کہ میں تو جماعت کا نمائندہ نہیں میں تو حکومت کا مقرر کردہ ہوں۔نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت تک ہماری آواز پہنچنی بالکل بند ہو گئی۔قائد اعظم مرحوم سے بھی ایک دفعہ بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا فکر ہے آپ کا نمائندہ ظفر اللہ خاں ہمارے پاس موجود ہے حالانکہ ظفر اللہ خاں ان کے نمائندے تھے ہمارے نہیں تھے۔پس ظفر اللہ خاں کی وجہ سے نہیں بلکہ مرکز میں پھیلنے والی افواہوں اور ایسے دوسرے لوگوں سے جو ہم پر حُسنِ ظنی رکھتے ہیں ہمیں بعض امور کا پتا لگ جاتا ہے اور وہ حسب موقع ہم سے مشورہ بھی کرتے رہتے ہیں۔جب کشمیر کی تحریک ہوئی اُس وقت بھی ہمیں ایسے ہی لوگوں سے کئی خبریں ملیں جن سے ہمیں بہت فائدہ ہوا۔ایک دفعہ ایک ایسا واقعہ ہونے لگا تھا جس سے تحریک کشمیر بالکل تباہ ہو جاتی۔اُس وقت ایک ہندو لیڈر دیوان چمن لال تھے جو دیوان رام لال کے بھائی تھے۔کانگرس میں انہیں کافی پوزیشن حاصل تھی۔جب راجہ نے دیکھا کہ اب اسے کوئی رستہ نہیں ملتا تو اُس نے کانگرس کو خریدنے کی کوشش کی۔چنانچہ اُس نے دیوان چمن لال سے کہا کہ میں کی آپ کو یورپ میں پرو پیگنڈا کے لیے مقرر کرتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے اس تحریک کے ماتحت اپنی ایک واقف عورت کو جو انگلستان کی مشہور جرنلسٹ اور اخباری نمائندوں میں اچھی پوزیشن رکھنے والی تھی مقرر کیا اور اُسے تار دیا کہ میں تمہیں پچاس پونڈ ماہوار دوں گا اور تمہارے باقی ب اخراجات بھی ادا کر دوں گا تم اخباروں میں ریاست کے حق میں پرو پیگنڈا کرو۔وہ