خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 284

$1954 284 خطبات محمود عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! یہ بات ہماری قوم کے ایک بد بخت نوجوان کے منہ سے نکل گئی ہے۔ہم اس سے کلی طور پر بیزار ہیں۔آپ نے فرمایا اے انصار! اس کا ایک اور رُخ بھی ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ایک نبی کو مکہ میں پیدا کیا لیکن اُس کی قوم نے اُس کی قدر نہ کی۔اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کو اُٹھا کر مدینہ بھیج دیا۔پھر فرشتوں کی مدد اور خدا تعالیٰ کی برکات اور فضلوں کے نتیجہ میں وہ بڑھا، پھلا اور پھولا اور اُس نے ترقی حاصل کی اور مکہ فتح کر لیا۔جب اس کا مکہ پر قبضہ ہو گیا تو مکہ والوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ تو سچا رسول تھا، ہم نے اس کی ناقدری کی ہے۔چنانچہ انہوں نے اُسے قبول کیا اور پھر وہ خیال کرنے لگے کہ شاید ان کی کھوئی ہوئی دولت اُن کو واپس مل جائے گی اور خدا کا رسول پھر مکہ میں آباد ہو جائے گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے کہا چونکہ تم نے میری نعمت کو رڈ کر دیا تھا اس لیے اب یہ عظیم الشان نعمت تمہیں واپس نہیں مل سکتی۔چنانچہ اُس نے مکہ والوں سے کہا کہ اونٹ اور بکریاں تم لے لو اور مدینہ والوں سے کہا کہ تم میرے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔فرمایا تم یہ بھی کہہ سکتے ہو۔4 تمہاری بھی یہی مثال ہے۔تم خدا تعالیٰ کو یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ پہلے نوکریاں نہیں کی ملتی تھیں۔اب چونکہ پاکستان بن گیا ہے اس لیے ہم نوکریاں کریں گے اور دنیوی راحت و آرام حاصل کریں گے۔اور یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ اب اگر نوکریاں مل رہی ہیں تو کوئی بات نہیں ہم پہلے بھی خدا تعالیٰ کے تھے اور اب بھی خدا تعالیٰ کے ہی رہیں گے اور اُس کے دین کی خدمت کریں گے۔تم خود سمجھ سکتے ہو کہ تم خدا تعالیٰ کو ان دونوں میں سے کونسا جواب دینا پسند کرو گے۔کیا تم قیامت کے دن یہ کہہ کر اپنے ماں باپ کی ناک رکھو گے کہ جب تک پاکستان نہیں بنا تھا ہم نے اپنی زندگیاں وقف کیں۔لیکن جب پاکستان نے بن گیا تو ہم نے وقف توڑ دیئے؟ یا تم یہ کہو گے کہ جب تک پاکستان نہیں بنا تھا ہم خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کی تھیں اور جب پاکستان بن گیا تب بھی ہم نے خدا تعالیٰ کو ہی مقدم رکھا؟ تم سمجھ سکتے ہو کہ تم پہلا جواب دے کر اپنے ماں باپ کی طرف فخر کے ساتھ گردن اُٹھا کر دیکھ سکو گے یا دوسرا جواب دے کر تم اُن کی ناک کو محفوظ