خطبات محمود (جلد 35) — Page 275
$1954 275 خطبات محمود اپنی غلطی کی معافی طلب کرنی چاہیے۔باقی یہ کہ لوگوں کی بددعائیں خواہ ظالمانہ ہوں خدا تعالیٰ تک چلی جاتی ہیں اور وہ انہیں قبول کر لیتا ہے درست نہیں۔اگر بددعا ئیں کام دیں تو ہمارے لیے تو سارے مولوی بددعائیں کرتے رہتے ہیں۔ایسے مولوی بھی موجود ہیں جو سٹیجوں پر رات دن ہم پر لعنت ڈالتے رہتے ہیں۔اگر اُن باتوں میں کوئی اثر ہوتا تو یہ سلسلہ کبھی کا ختم ہو جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ، انسانی کام ہوتا تو یہ سلسلہ تو کبھی کا ختم ہو جاتا۔پس اس امر کو یاد رکھو کہ ہمارا خدا منصف اور وفادار ہے۔وہ ہمیشہ انصاف سے کام لیتا ہے۔وہ صرف اُس کو پکڑتا ہے جو غلطی کرتا ہے اور جو شخص غلطی نہیں کرتا وہ اسے کچھ نہیں کہتا۔دین کے بارے میں تم حق پر ہو۔اس لیے خدا تعالیٰ دین کے بارہ میں دوسرے لوگوں کی کو ہی پکڑے گا تمہیں نہیں پکڑے گا۔اگر تم کسی سے حُسنِ سلوک کرتے ہو اور وہ تمہارے احسان کی ناقدری کرتا ہے تو بدلہ تو خدا نے دینا ہے۔وہ اسے دیکھ رہا ہے۔اگر وہ شخص تمہارے احسان کی قدر نہیں کرتا بلکہ تم پر ظلم کرتا ہے تو تمہیں خدا تعالیٰ سے دُہرے بدلہ کی امید کرنی چاہیے۔ایک تو تمہارے احسان کا بدلہ تمہیں ملے گا اور دوسرے تم پر ظلم کرنے کی وجہ سے تمہارے احسان فراموش دشمن کی نیکیاں بھی تمہیں مل جائیں گی۔لیکن یہ یاد رکھو کہ شریف طبقہ ہر قوم میں ہوتا ہے۔دہریوں میں بھی شریف ہوتے ہیں۔پھر مسلمان کے کان میں تو قرآن کریم کے الفاظ رات دن پڑتے رہتے ہیں۔اس لیے کوئی نہ کوئی درجہ شرافت کا اس میں ضرور موجود ہوتا ہے۔پس تم کیونکر سمجھتے ہو کہ تمہاری نیکی اُن پر اثر نہیں کرے گی۔ممکن ہے تمہاری نیکی دیکھ کر وہ بھی اس قسم کا کام کرنا شروع کر دیں اور اس طرح ان میں بھی قوم، ملک اور حکومت کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو جائے۔اور اگر ایسا کی جائے تو تمہیں اس بات کا بھی ثواب ملے گا کہ تم نے نیکی کی۔اور اس بات کا بھی ثواب ملے گا کہ تمہاری وجہ سے دوسرے کئی لوگوں نے نیکی کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے ذریعہ کوئی دوسرا آدمی ہدایت پا لیتا ہے تو اُسے دو ثواب ملتے ہیں۔ایک ثواب تو اس کی اپنی نیکی کا ہوتا ہے اور ایک ثواب اُس شخص کی نیکی کا ملتا ہے جو اُس کے