خطبات محمود (جلد 35) — Page 260
$1954 260 خطبات محمود ہوئے پانچ بجے کی بجائے چار بجے سامان لینے جائے گا تو یقیناً وقت پر روانگی ہو سکے گی ورنہ کی پانچ بجے اطلاع دینے پر وقت پر روانگی نہیں ہو سکتی۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن ذہانت کی کمی کی وجہ سے ہمیشہ ان میں غلطی کی جاتی ہے۔چالیس سال سے میں جماعت کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں لیکن ابھی تک وہ بیدار نہیں ہوئی۔اب میں لاہور گیا تو میں نے جماعت لاہور میں ایک نئی بیداری دیکھی جسے دیکھ کر خوشی ہوئی مگر اس بیداری کے ساتھ ذہانت کو کام میں نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے مجھے افسوس ہوا۔مثلاً وہاں لاہور کی جماعت کی طرف سے پہرہ کا انتظام کیا گیا مگر اس انتظام میں کم عقلی کا مظاہرہ ہوا جو ہمارے ملک کے تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔میری ایک نوسالہ نواسی آئی تو اُسے احاطہ کے اندر نہ آنے دیا گیا۔میرے بعض رشتہ دار جو رتن باغ میں رہتے تھے اپنے دفتروں کو جانے کے لیے باہر جانا چاہتے تھے مگر اُن کو باہر جانے سے روکا گیا۔میرا ایک تین سال کا نواسہ تھا نیچے سے میرے پاس اوپر آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگا تو اُسے اس سختی۔ڈانٹا گیا کہ وہ ایک گھنٹہ تک روتا رہا۔حالانکہ اگر میرے رشتہ دار بھی مجھے نہیں مل سکتے تو ہم نے ایسے پہروں کو کیا کرنا ہے۔اگر عقل سے کام لیا جاتا تو یہ بیداری جو اب پیدا ہوئی تھی بڑی برکت والی ہوتی مگر عقل سے کام نہیں لیا گیا۔میں نے بارہا بیان کیا ہے اور ہمارا پہرہ ایسا ہوتا ہے جیسے کسی فوج نے حملہ آور ہونا ہوتا ہے۔حالانکہ جس حملہ کا خیال کیا جا سکتا ہے وہ صرف اسی قدر ہے کہ اگر کوئی اندرونی منافق حملہ کر دے یا کوئی دشمن کا آدمی آ جائے اور وہ مجلس میں موقع دیکھ کر حملہ کر دے لیکن ہمارا پہرہ اس طرح ہوتا ہے جیسے کسی فوج نے حملہ آور ہونا ہوتا ہے۔وہاں تو گولہ باری ہوتی ہے اس لیے دس دس میل تک وا چنگ افسر مقرر کیے جاتے ہیں۔لیکن کیا ایک منظم حکومت میں ایسا حملہ ہو سکتا ہے؟ یہاں تو جب بھی کوئی خطرہ ہوگا کسی اندرونی منافق یا دشمن کے بھیجے ہوئے کسی آدمی کی طرف سے ہو گا اور ایسے شخص کو ہماری موجودہ تدبیروں سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔انتظام کی خرابی اس امر سے واضح ہے کہ ادھر تو میرے نواسے اور نواسیوں کو اندر آنے سے روکا جا رہا تھا اور اُدھر یہ حالت تھی کہ باوجود اس کی کے کہ میں شعف دل کے دوروں کی وجہ سے بیمار تھا ایک دن میں نماز کے لیے آیا تو ایک شخص