خطبات محمود (جلد 35) — Page 178
خطبات محمود 178 $1954 پھر عبادتوں کے علاوہ ایسے اخلاقی کام بھی ضروری ہیں جن میں اپنی اور دوسروں کی ای اصلاح شامل ہو۔مثلاً ظلم نہیں کرنا، فساد نہیں کرنا، دھو کے بازی نہیں کرنی، چوری نہیں کرنی، ڈاکہ نہیں ڈالنا، لوگوں کا دل نہیں دُکھانا۔اگر کوئی شخص ان باتوں پر عمل کرتا ہے تو سب لوگ کہتے ہیں کہ فلاں بڑا نیک ہے۔اور اگر عمل نہ کرتا ہو تو سب اس کی مذمت کرتے ہیں اور اگر کوئی بڑا آدمی ہو جس کے منہ پر لوگ اُس کی مذمت نہ کر سکیں تو پیٹھ پیچھے اس کی ضرور بُرائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں بُرا آدمی ہے۔ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اُس نے کہا کہ مہاجروں پر بڑا ظلم کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔جب وہ اُٹھ کر چلا گیا تو ایک شخص نے کہا کہ یہ سب سے زیادہ جھوٹا انسان ہے۔اب اُسے سامنے تو کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوئی لیکن ادھر اُس نے پیٹھ پھیری اور اُدھر دوسرے شخص نے بتایا کہ یہ خود بڑا گندہ اور جھوٹ بولنے والا ہے۔اس کی بات کا کیا اعتبار ہے۔تو منہ سے اگر کوئی کہتا ہے لیکن عمل نہیں کرتا تو کہنے والے کہتے اور محسوس کرنے والے محسوس کرتے ہیں کہ وہ فریب کر رہا ہے۔پس مومن کو چاہیے کہ اپنی زندگی اپنے قول کے مطابق بنائے۔آخر ہر انسان نے اس دنیا میں رہنا ہے اور ہر انسان نے ایک دن مرنا ہے۔خواہ کوئی تن آسانی کے ساتھ رہے خواہ جی تکلیف میں اپنی زندگی کے ایام کاٹے اور خواہ کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ انسان نے مر کر مٹی ہو جانا ہے اور خواہ وہ یہ سمجھے کہ مرنے کے بعد انسان جنت یا دوزخ میں جاتا ہے بہر حال یہ تو کوئی شخص ایک منٹ کے لیے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ مرنے کے بعد اُس کے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔شخص کھاتا پیتا ، لڑتا جھگڑتا، اچھے کام کرتا یا بُرے کام کرتا ہے وہ اتنا تو سمجھتا ہے کہ سانس ڑکنے کے بعد کچھ نہ کچھ کیفیت ضرور پیدا ہو گی۔خواہ یہ مان لو کہ انسان مر کر مٹی ہو جاتا ہے اور خواہ یہ مان لو کہ وہ جنت یا دوزخ میں جاتا ہے۔بہر حال کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔پس انسان سوچنا چاہیے کہ جب مرنے کے بعد کچھ نہ کچھ ضرور ہونا ہے تو اگر وہ بُرے اعمال کرتا رہا تو اس آئندہ آنے والی زندگی میں اس پر کیا گزرے گی۔اور اگر وہ کسی زندگی کا قائل نہیں تب بھی اسے سمجھ لینا چاہیے کہ فائدہ نیک اعمال میں ہی ہے خواہ انسان نے مر کر مٹی میں