خطبات محمود (جلد 35) — Page 130
$1954 130 خطبات محمود کی جماعت میں بھی ایک روحانی ہجرت جاری ہے اور ہر سال کچھ شیعوں میں سے، کچھ سنیوں میں سے، کچھ وہابیوں میں سے، کچھ شافعیوں میں سے، کچھ دوسرے فرقوں میں سے نکل نکل کر لوگو ہمارے اندر شامل ہوتے رہتے ہیں اور وہ قرآن سے واقف نہیں ہوتے۔پس اگر ہم سارے لوگوں کو قرآن پڑھا لیتے ہیں تب بھی کچھ عرصہ کے بعد ایک حصہ ایسے لوگوں کا ضرور نکل آئے گا جو قرآن سے ناواقف ہو گا اور پھر ہمارا فرض ہو گا کہ ہم اُن کو قرآن سے واقف کریں۔بیشک ہمیں ایسے ذرائع میسر نہیں کہ ہم ہر احمدی کو عربی پڑھا سکیں لیکن قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کا تھوڑا بہت علم ہر شخص کو ہونا چاہیے کیونکہ قرآن ہماری روحانی غذا ہے۔جس طرح روٹی کھائے بغیر انسانی جسم زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح قرآن کریم کے بغیر ہماری روح کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔جسم کی موت کے بعد انسانی اعضاء سڑنے گلنے شروع ہو جاتے ہیں لیکن اگر کسی تی انسان کی روح مرجاتی ہے تو اُس کا جسم سڑتا گلتا نہیں۔تم اسے چلتے پھرتے ہوئے دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو کہ اُس کی روح بھی زندہ ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہوتا ہے۔تم اگر ایک دن یا دو دن یا چار دن یا سات دن غذا نہیں کھاتے تو تم سمجھ لیتے ہو کہ اب تم موت کے قریب پہنچ گئے ہو۔اور جب کوئی مر جاتا ہے تو تمہیں اُس کی موت میں کوئی شبہ نہیں رہتا کیونکہ اُس کی موت کی علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔جب وہ سانس نہیں لیتا، جب وہ حرکت نہیں کرتا، جب وہ دیکھتا نہیں، جب وہ سنتا نہیں، جب وہ بولتا نہیں تو تم سمجھ لیتے ہو کہ وہ مر گیا ہے۔لیکن روحانی موت کی علامتوں کا بسا اوقات تم مطالعہ نہیں کرتے اور یا پھر اپنے آپ کو تم فریب دینا چاہتے ہو کہ اس کے مُردہ ہونے کے باوجود تم اس کو زندہ سمجھتے ہو۔ایک آدمی روحانی لحاظ سے دس سال سے مرا ہوا ہوتا ہے لیکن تم اُس کے ساتھ بے تکلفانہ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہو اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے ہو کہ وہ بڑے اچھے آدمی ہیں، بڑے نیک اور بزرگ صرف اتنی بات ہے کہ نماز میں سُست ہیں۔یا فلاں بہت ہی نیک آدمی ہے، بڑا مخلص احمدی ہے لیکن چندہ میں سُست ہے۔یا فلاں بڑا بزرگ ہے، سلسلہ کے ساتھ بڑا اخلاص رکھتا۔لیکن ذرا جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔گویا ایک طرف تو تم یہ کہتے ہو کہ وہ روحانی لحاظ چکا ہے، اُس کے اندر زندگی کے کوئی آثار نہیں۔وہ بے نماز بھی ہے، وہ جھوٹا بھی مر ہیں۔ہے ނ ہے،