خطبات محمود (جلد 35) — Page 123
خطبات محمود 123 $1954 بدر کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے خدا! اگر یہ مختصر سا تی گروہ ہلاک ہو گیا تو دنیا میں تیری عبادت کون کرے گا۔5 اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ پر اعتبار نہیں تھا بلکہ اس رنگ میں دعا کر کے آپ نے خدا تعالیٰ کو غیرت دلائی۔اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا ایلی ایلِى لِمَا سَبَقْتَنِي یعنی اے خدا! چاہیے تو یہ تھا کہ اس مصیبت کے وقت تو میری مدد کے لیے آتا لیکن تو تو مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔اب آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ خدا تعالی مصیبت کے وقت انہیں واقع میں چھوڑ گیا تھا۔بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ میرا دل گھبرا رہا ہے آپ جلدی میری مدد کے لیے آئیں۔اس رنگ میں اگر دعا کی جاتی ہے تو وہ قبولیت دعا پر عدم یقین کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کو غیرت دلانے کے لیے ہوتی ہے۔قرآن کریم سے بھی پتا لگتا ہے کہ جب اس رنگ میں دعا کی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کو غیرت آ جاتی ہے۔جب مومن کہتے ہیں مَتَى نَصْرُ الله 7 اے خدا ! تیری مدد اور نصرت کب آئے گی؟ تو خدا تعالیٰ کہتا ہے تم طعنہ دیتے ہو۔تو سنو! میری مدد آ پہنچی۔پس جب بھی مومن خدا تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارتا ہے اور جب بھی مومنوں کے دلوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اے خدا! تو نے اچھے وعدے کیے تھے کہ ابھی تک وہ پورے ہی نہیں ہوئے۔تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دعا کرنے والے کو اُن وعدوں پر یقین نہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم نے جو امیدیں رکھی تھیں اُس کے مطابق وہ وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے۔اس پر خدا تعالیٰ کو غیرت جاتی ہے اور وہ فوراً مدد کو آ جاتا ہے۔پس مومن کو ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہنا چاہیے اور اس کے فضلوں کی امید رکھنی چاہیے۔جس شخص کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کی امید ہوتی ہے دنیا میں کوئی قانون نہیں کہ اُسے اس مید سے روکا جا سکے۔گو آجکل یہ کیفیت ہے کہ اگر ہم کہیں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت آئے گی تو کہا جاتا ہے کہ اس سے تم دوسروں کو اشتعال دلاتے ہو حالانکہ یہ ایسی چیز ہے جو کسی۔چھڑ وائی نہیں جا سکتی۔خدا تعالیٰ کے متعلق جو بات ہے وہ تو بندے نے کہنی ہی ہے۔کئی باتیں ایسی ہیں جن کے کہنے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔اگر کوئی کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مدد آئے