خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 115

$1954 115 خطبات محمود اتنا بوجھ زائد اُٹھا سکیں۔پھر ان ای جیٹیشنوں میں لوگوں پر لاٹھی چارج بھی کرنے پڑتے جس کی کی وجہ سے پولیس بڑھانی پڑتی تھی۔اس طرح دو ماہ میں ہی حکومت مطالبہ مان لیتی تھی۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم بھی اس طرح کرو کیونکہ میں گاندھی جی کے طریق کے خلاف تھا لیکن میں ضرور کہوں گا کہ تمہیں اس کے متعلق اب سوچنا پڑے گا۔اگر تم نے زندہ رہنا ہے تو تمہیں کوئی مناسب تدبیر نکالنی ہوگی۔اور ہر احمدی کو اس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ کیا وہ احمدی رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔اگر اُس نے احمدی رہنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غور کر کے ایسی تدبیر نکالے جس سے اُس کی قوم کی عزت قائم ہو۔وہ دوسرے لوگوں سے تبادلہ خیالات کر کے کسی نتیجہ پر پہنچے۔اب تو بے عملی کا یہ حال ہے کہ مجھ پر حملہ ہوا تو باہر والوں نے آکر ربوہ والوں کو خوب گالیاں دیں اور کہا ربوہ والوں کی موجودگی میں خلیفہ پر حملہ ہو گیا ہے لیکن ہوا کیا؟ جماعت کے افراد نے شورای میں تقریریں کیں اور پھر واپس چلے گئے۔کسی ناظر کو آج تک یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ حفاظت کے لیے کوئی زائد آدمی رکھے اور نہ باہر والوں نے اس کی نگرانی کی ، نہ آدمی پیش کیے۔تین آدمیوں کو امور عامہ نے افسر کے طور پر بلانا چاہا لیکن اُن فدائیوں نے معذرت کر دی۔اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم اس ذمہ داری کے قابل نہیں۔یعنی اب تو خلیفہ پر حملے ہونے لگے ہیں۔اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے ہم قابل نہیں۔جب عمل کرنے کی ہمت نہیں تھی تو ریزولیوشن پاس کرنے کا کیا فائدہ تھا۔ربوہ والوں کو بے حیا کہہ دینا آسان ہے لیکن عمل کرنا مشکل ہے۔ربوہ والوں سے جو کوتاہی ہوئی اُس کا داغ تو اب جاتے نہیں۔قادیان میں یہ ہوتا تھا کہ نماز میں پہلی دو تین صفوں میں معروف آدمیوں کو بٹھایا جاتا تھا۔مولوی شیر علی صاحب خالص مذہبی آدمی تھے لیکن اس بارہ میں وہ غلو کی حد تک پہنچ گئے تھے۔رہ مسجد میں پہنچتے ہی معروف لوگوں کو آگے بٹھانا شروع کر دیتے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب بھی مولوی تھے لیکن اُن میں یہ عادت تھی کہ مسجد میں جاتے ہی پہلی صفوں کا جائزہ یہ لیتے اور غیر معروف لوگوں کو پیچھے کر دیتے۔ہم پر فوج نے تو حملہ نہیں کرنا۔اگا دُگا بدمعاش بے ایمان ہی آئے گا اور شرارت کرے گا اور اگے دُگنے بدمعاش کا یہی علاج ہے کہ اگلی دوتین