خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 82

$1954 82 88 خطبات محمود کر دیتی ہے تو اُس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح وہ کشمیری مرد، عورتیں اور بچے کہ سے گود گئے تھے اور انہوں نے دیوانہ وار زور لگانا شروع کر دیا تھا اُسی طرح وہ بھی زور لگانا شروع کر دیں اور تہیہ کر لیں کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اپنے مقام کو حاصل کر کے رہیں گے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور اپنی غفلتوں کو دور کرو۔خدا نے تمہیں اول بنایا تھا اور وہ چاہتا ہے کہ اب بھی تم اس مقام کو ضائع نہ کرو۔تم اس بننے کی طرح اپنی مونچھیں نیچی نہ کرو۔ممکن ہے اگر تم سچے دل سے کوشش کرو تو تمہارے کمزور بھی مضبوط ہو جائیں، تمہارے نوجوان بھی قربانی کرنے والے بن جائیں اور پھر تمہاری زندگی بالکل بدل جائے اور تم اولیت کے مقام کو دوبارہ حاصل کر لو۔ایک پرانا خاندان جو غیر مبائع ہو چکا ہے اُس کی ایک خاتون مجھ سے ملنے کے لیے آئیں تو ساتھ اُن کے ایک چھوٹی عمر کا نواسہ بھی تھا۔انہوں نے جو باتیں کیں اُن سے پتا لگتا ہے کہ چاہے وہ ہم سے کتنے ہی دور ہو چکے ہوں پھر بھی وہ سلسلہ سے اپنے تعلقات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔باتوں باتوں میں پتا لگا کہ اُس بچہ کو درمشین خوب یاد ہے مگر چونکہ اسے در مشین تو پڑھائی گئی اور ادھر ہم سے قطع تعلق رہا اس لیے بچہ یہ سمجھ ہی نہ سکا کہ اس درنشین کے اشعار میں جن کا ذکر ہے وہ ہم لوگ ہی ہیں۔اُس بچے نے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کے متعلق درثمین میں پڑھا تھا۔کلام اللہ کو پڑھتی ہے فرفر خدا کا فضل اور رحمت سراسر 5 مگر چونکہ وہ ہم سے کبھی ملے نہیں تھے اس لیے وہ اپنی نانی کو کہنے لگا میں مبارکہ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔اب اُن کی عمر 55 سال کی ہو چکی ہے۔اُن کے بچوں کے بھی آگے بچے بچیاں ہیں۔وہ انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ حضرت صاحب نے تو لکھا ہے وہ فرفر قرآن پڑھتی ہے اور یہ تو بڑی عمر کی عورت ہیں۔اس سے یہ تو پتا لگ گیا کہ اُن کے اندر احمدیت پائی جاتی ہے مگر جدائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے ذہن کے نقشے بدل گئے۔اس طرح اُس کی نانی بچے کو میرے پاس لائی اور کہا یہ وہ محمود ہیں جن کے متعلق تم شعر پڑھا کرتے ہو کہ تو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنا ئیں گایا 6