خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 75

$1954 75 خطبات محمود باپ کے مقابلہ میں، اور یزید کی کیا حیثیت ہے میرے مقابلہ میں۔ہم نے ابتدائے اسلام میں کام کیا ہے جبکہ یہ لوگ اسلام کے مخالف تھے۔پس یہ کون ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو ہم بہتر قرار دیں۔چنانچہ میں نے اپنا کپڑا کھولا اور یہ کہنا چاہا کہ یہاں وہ لوگ موجود ہیں جن کے باپ کی حیثیت یزید کے باپ کی حیثیت سے بہت بلند ہے اور یہاں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو اسلام کے لیے قربانی اور اس کی خدمت میں یزید سے بہت آگے ہیں مگر پھر میں بیٹھ گیا اور میں نے اپنے دل میں کہا یہ محض ایک دنیوی چیز کے لیے آگے آرہے ہیں میں اس میں کیوں دخل دوں؟ دیکھو! اس میں دونوں باتیں آ گئیں۔اُن کا احساس غیرت بھی ثابت ہو گیا اور پتا لگ گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر محسوس کرتے تھے کہ اُن کے خاندان کو خدا تعالیٰ نے وہ فضیلت دی ہے جو معاویہ اور اُس کے خاندان کو حاصل نہیں۔لیکن دوسری طرف انہوں نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ہم اس اہمیت کے ذریعہ سے کوئی دنیوی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے۔پس ہمیں کسی کے لیے ٹھو کر بننے کی کیا ضرورت ہے۔غرض ایک ہی وقت میں وہ خدمت دین کا موقع ملنے پر فخر کرتے ہیں اور اُس وقت اُن کے اندر یہ احساس بھی پایا جاتا تھا کہ اس کے بدلہ میں ہم نے لوگوں پر حکومت نہیں کرنی اور یہی اصل روح ہوتی ہے۔پھر بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ گو ان کے تعلقات پرانے نہیں ہوتے لیکن جوش محبت میں وہ اپنے آپ کو آگے لے آتے ہیں اور وہ اپنے تعلقات کو ایسے رنگ میں ظاہر کرتے ہیں کہ گویا اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کوئی بہت بڑی پوزیشن حاصل تھی۔اُس وقت یہ نظارہ دیکھ کر ہمیں کم از کم اتنا لطف ضرور آ جاتا ہے کہ ان کو اس تعلق کی قیمت کا کتنا احساس ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جن کی کتابوں میں بڑی کثرت کے ساتھ احادیث پائی جاتی ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب مسلمان ہوئے تھے۔اُن سے بہت زیادہ موقع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے کا کئی دوسرے صحابہ کو ملا تھا مگر وہ اپنے عشق اور محبت میں یہ جتانے کے لیے کہ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کو کوئی بہت بڑی پوزیشن حاصل تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد