خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 73

$1954 73 خطبات محمود والد صاحب کے تعلقات بھی زیادہ تر لاہور کے رؤساء سے تھے۔اس لیے ابتدائی ایام میں ہی تھی یہاں ایک ایسی جماعت پائی جاتی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اخلاص رکھتی تھی۔الہی بخش صاحب اکاؤنٹینٹ جو بعد میں شدید مخالف ہو گئے وہ بھی یہیں کے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بعد میں تکفیر کا فتوی لگانے والوں کے سردار بنے وہ بھی یہیں چینیاں والی مسجد کے امام تھے اور ان کا زیادہ تر اثر اور رسوخ لاہور میں ہی تھا۔گو وہ رہنے والے بٹالہ کے تھے۔اسی طرح میاں چراغ الدین صاحب، میاں معراج الدین صاحب اور میاں تاج الدین صاحب کے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت پرانے تعلقات تھے۔میاں چراغ الدین صاحب اور میاں معراج الدین صاحب کا خاندان اپنے پرانے تعلقات کے لحاظ سے جو بیعت سے بھی پہلے کے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نگاہ میں بہت قرب رکھتا تھا۔پھر حکیم محمدحسین صاحب قریشی جنہوں نے دہلی دروازہ والی مسجد بنوائی اُن کے تعلقات بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت قدیم اور مخلصانہ تھے۔میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے تعلقات تو الہی بخش اکاؤنٹینٹ سے بھی پہلے کے تھے۔حتی کہ میرے عقیقہ میں جن دوستوں کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی اُن میں میاں چراغ الدین صاحب بھی تھے۔اتفاقاً اُس دن سخت بارش ہو گئی۔وہ سناتے تھے کہ ہم باغ تک پہنچے مگر آگے پانی ہونے کی وجہ سے نہ جا سکے اور وہیں سے ہمیں واپس لوٹنا پڑا۔پس اس جگہ کی جماعت کی بنیاد ایسے لوگوں سے پڑی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اُس وقت سے اخلاص رکھتے تھے جب آپ نے ابھی دعوی بھی نہیں کیا تھا اور براہین لکھی جا رہی تھی۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کے خاندانوں کو ترقی دی اور وہ اخلاص میں بڑھتے چلے گئے۔میاں چراغ الدین صاحب اور میاں معراج الدین صاحب کے خاندان کے اس وقت درجنوں آدمی ہیں اور ان میں سے بہت سے لاہور میں ہی ہیں۔میاں مظفرالدین صاحب جو پشاور کی جماعت کے امیر تھے وہ میاں تاج الدین صاحب کے بیٹے تھے۔اسی طرح اور کئی پرانے خاندانوں کی اولادیں یہیں ہیں مگر افسوس ہے کہ اگلی نسل میں اب وہ پہلی سی بات نہیں رہی۔ان میں کچھ تو مخلص ہیں اور کچھ کمزور ہو گئے ہیں۔جو لوگ مخلص ہیں اُن میں کچھ تو ایسے ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ