خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 414

$1954 414 خطبات محمود سمجھتے ہوئے اپنے باپ دادوں سے زیادہ قربانی کریں۔یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے وعد۔اپنے باپ دادوں سے کم ہوں اور وصولی ان سے بھی کم ہو۔میں نے اپنے ایک خطبہ میں یہ تحریک کی تھی کہ کوشش کی جائے کہ ہمارے وعدے دولاکھ سے چار لاکھ ہو جائیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دوست وصولی کا بھی خیال رکھیں۔ابھی تک نئے دور کے وعدے بہت کم ہیں حالانکہ نو جوانوں کی تعداد پہلے لوگوں سے بہت زیادہ ہو چکی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک جدید کو عام نہیں کیا گیا۔میں نے جماعت کے سامنے ایسی تجاویز رکھی تھیں کہ غریب سے غریب لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے تھے۔مثلاً میں نے بتایا تھا کہ اگر ایک شخص پانچ روپیہ دے کر تحریک جدید میں حصہ نہیں لے سکتا تو تین چار آدمی مل کر اس میں حصہ لے لیں۔میرا تجربہ ہے کہ پہلے پہلے لوگ بہت کم حصہ لیتے ہیں لیکن بعد میں جا کر اُن کا اخلاص قابلِ رشک ہو جاتا ہے کیونکہ جب کوئی شخص نیکی کی طرف قدم اُٹھاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کی مدد کرتے ہیں۔میں نے کئی لوگ ایسے دیکھے ہیں کہ ابتدا میں انہیں ایک دھیلا چندہ دینا بھی بوجھ نظر آیا۔لیکن بعد میں انہوں نے اتنی بھاری رقوم چندہ میں دیں کہ رشک پیدا ہوتا تھا کہ انہوں نے کس کس طرح اپنے پیٹ کی کاٹ کر چندے دیئے ہیں۔پس اصل چیز یہ ہے کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جس نے تحریک جدید میں حصہ نہ لیا ہو۔اگر ہماری نئی نسل میں کوئی عورت یا کوئی مرد ایسا نہ رہے جس نے تحریک جدید میں حصہ نہ لیا ہو تو ہمیں بہت بڑی کامیابی ہو سکتی ہے۔ہم نے یہ شرط رکھی ہے کہ تحریک جدید میں حصہ لینے والا کم از کم پانچ روپیہ چندہ دے لیکن اگر کوئی ایک شخص پانچ روپیہ نہیں دے سکتا تو ایک خاندان پانچ روپیہ دے دے۔ایک خاندان پانچ روپیہ نہیں دے سکتا تو دو خاندان پانچ روپیہ دے دیں، دو خاندان نہیں دے سکتے تو تین خاندان دے دیں، اگر جماعت کے سارے کے سارے افراد اس میں شامل ہو جائیں تو ہماری جماعت اتنی ہے کہ تحریک جدید کے وعدے موجودہ تعداد سے بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔اگر پاکستان کی جماعت اڑھائی لاکھ کی بھی فرض کر لی جائے اور ہر ایک خاندان چار چار افراد پر مشتمل سمجھ لیا جائے تو باسٹھ ہزار کے قریب خاندان بن جاتے ہیں اور چونکہ بعض لوگ کم چندہ دیتے ہیں