خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 401

$1954 401 خطبات محمود کسی کو نظر نہیں آ رہے۔لیکن اگر ادارے علیحدہ طور پر اپنے اپنے کارکنوں کو سمجھائیں تو وہ یہ سمجھیں گے کہ نصیحت کرنے والا انہیں دیکھ رہا ہے۔اس لیے اِس نصیحت پر عمل کرنا اُن کا کی فرض ہے۔پس ہر ایک ادارہ اپنے سٹاف کو سمجھائے۔سکول والے اپنے اساتذہ اور طلباء کو سمجھائیں، کالج والے اپنے اساتذہ اور طلباء کو سمجھائیں، جامعہ والے اپنے اساتذہ اور طلباء کو سمجھائیں، ریسرچ والے اپنے کارکنوں کو سمجھائیں، ہر محلہ کے صدر اپنی اپنی جگہ جلسہ کریں اور افراد محلہ کو سمجھائیں، دکاندار اپنا اجلاس کریں اور اپنی سوسائٹی میں اس بات کو پیش کریں کہ جلسہ کے موقع پر وہ اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح پورا کر سکتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی شکایت ہے کہ جلسہ کے موقع پر باوجود منع کرنے کے دکاندار اپنی دکانیں کھول لیتے ہیں۔وہ لوگوں پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم یہاں صرف دین کی خاطر آئے ہیں لیکن جلسہ اُن کے جھوٹ کو ظاہر کر دیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ وہ دین کے لیے نہیں بلکہ دنیا کمانے کے لیے آئے ہیں۔جلسہ صرف تین دن ہوتا ہے۔ان دنوں میں دنیا کمانے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔یعنی جلسہ شروع ہونے سے پہلے اور جلسہ ختم ہونے کے بعد دکانیں کھولی جات سکتی ہیں اور دنیا کمائی جا سکتی ہے۔اور اگر دکاندار قربانی کریں تو خدا تعالیٰ انہیں زیادہ بھی دے سکتا ہے۔لیکن وہ مرکز کی ہر بات پر عمل نہیں کرتے۔ایک طرف سے امورِ عامہ والے شور تے جا رہے ہوتے ہیں کہ دکانیں بند کرو دوسری طرف خرید وفروخت ہو رہی ہوتی ہے۔یہ بالکل مکہ مکرمہ کے بدوؤں والی بات ہو جاتی ہے۔وہاں حج کے موقع پر بے تحاشا قربانی ہوتی ہے۔لوگ جانور ذبح کر کے پھینک دیتے ہیں اور گوشت کی پروا بھی نہیں کرتے۔بدوی آتے ہیں اور جو نہی ذبح کرنے والا چھری پھیرتا ہے وہ جانور کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں۔میں نے سات بکرے ذبح کیے تھے۔قدرتی طور پر جو شخص نگران تھا اُس نے ایک اچھا بکرا اپنے کھانے کے لیے چن لیا۔اُدھر بدوی بھی تاڑ رہے تھے۔میں نے دیکھا کہ ادھر ذبح کرنے والے نے بسم الله الله اکبر کہہ کر چُھری پھیری اور اُدھر بکرا خود بخود کھسکنا شروع ہوا۔اسی طرح سارے کے سارے بکرے غائب ہو گئے۔آخر ایک بکرے پر ایک ساتھی بیٹھ گیا تا اُسے کوئی بدوی گھسیٹ کر نہ لے جا سکے۔اُسی طرح یہاں ہوتا ہے۔ایک طرف ނ