خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 400

$1954 400 خطبات محمود ایک غیر احمدی مہمان بھی تھا۔اُس نے لکھا ہے کہ جس گھر میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے وہاں چاول اور شور با بڑی کثرت سے آتا تھا۔اُس غیر احمدی مہمان نے کہا یہ چاول اور شور با ہمیں تو نہیں ملتا، جاتا کہاں ہے؟ میں نے کہا یہ بیماروں کے لیے پر ہیزی کھانا ہے۔اس نے کہا تو کیا اس گھر والے سب کے سب بیمار ہیں کہ ان سب کے لیے چاول آ رہے ہیں؟ اس قسم کی حرکات کے بعد بھی وہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم سلسلہ کے خادم ہیں حالانکہ ان کے عمل کو دیکھا جائے تو وہ خادم نہیں بلکہ لٹیرے ہیں۔اسی طرح ایک اور دوست نے شکایت کی کہ ہم کھانا لینے لگے تو ہم نے دیکھا کہ سکول کا ایک استاد جو کھانا تقسیم کرنے پر مقرر تھا دیگ میں ہاتھ ڈال کر بوٹیاں اور آلو کھا رہا تھا۔اب جو شخص کام کرتا ہے لازماً اُس نے کھانا بھی ہے۔لیکن اگر وہ اس طرح کھائے گا تو یقیناً دیکھنے والوں کو نفرت آئے گی۔اگر تم کسی کے گھر دعوت پر جاؤ اور دیکھو کہ بچے ہنڈیا میں ہاتھ ڈال کر سالن کھا رہے ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس کی طبیعت میں نظافت ہو اُس ہنڈیا سے سالن کھانا گوارا کرے گا۔وہ ضرور کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے آ جائے گا۔اسی نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا القَاسِم مَحْرُوم 3 کہ تقسیم کرنے والا محروم ہوتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ تقسیم کرنے والوں کو کھانا نہیں ملنا چاہیے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ انہیں ایک وقت تک بھوک کو برداشت کرنا چاہیے اور پہلے دوسروں کو کھانا مہیا کرنا چاہیے۔اگر تقسیم کرنے والے پہلے خود کھائیں اور بعد میں مہمانوں کو دیں تو دیکھنے والوں کی طبائع پر یہ بات گراں گزرے گی۔پس ہر محکمہ کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے کارکنوں کی تربیت کرے۔میں نے پچھلے سال کی سب محکموں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنے اپنے کارکنوں کی تربیت کریں۔لیکن شکایت اُس ادارہ کے متعلق آئی جسے میں زیادہ منظم سمجھتا تھا اور جس کے کارکن ہی جلسہ سالانہ کے مختلف شعبوں میں آفیسرز کے طور پر کام کرتے ہیں۔آخر محکموں کے لیے اس میں دقت ہے۔وہ بڑی آسانی کے ساتھ اپنے کارکنوں کی تربیت کر سکتے ہیں۔یہاں میں جو کچھ کہہ رہا ہوں آپ سب سن رہے ہیں لیکن ہر ایک یہ سمجھ رہا ہے کہ میں پوشیدہ ہوں اور میرے نقائص