خطبات محمود (جلد 35) — Page 398
$1954 398 خطبات محمود رہائش اور خوراک کا خود انتظام کر لیں۔ان دونوں مفہوموں میں سے ہم کسی مفہوم کو ابھی متعین نہیں کر سکتے اور نہ وقت متعین کر سکتے ہیں کہ ایسا کب ہو گا۔بہر حال جب تک مہمانوں کو ٹھہرانا انسانی طاقت میں ہے اس وقت تک ہمیں یہی ہدایت ہے کہ وَسِعُ مَكَانَكَ 2 تم اپنے مکان بڑھاتے جاؤ اور مہمانوں کے لیے گنجائش نکالو۔مہمان خانہ اُٹھانے کا سوال اُس وقت پیش آئے گا جب مہمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ جائے گی کہ اُن کی خوراک کا سلسلہ کے لیے انتظام کرنا مشکل ہو جائے گا۔لیکن اگر لنگر اُٹھا دو کا یہ مطلب نہیں کہ مہمان خانہ اُٹھا دو تو پھر اس کے یہ معنی ہیں کہ ساکن ہونا مومن کا کام نہیں تم کشتیاں لو اور غیر ممالک میں پھیل جاؤ۔بہر حال اس وقت کے لحاظ سے ہم میں اتنی طاقت ہے کہ اگر ہم صحیح قربانی کریں تو ہم ہر سال مہمانوں کو ٹھہرا سکتے ہیں اور ان کے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں اور ایسا کرنے سے ہم پر کوئی نا قابل برداشت بوجھ نہیں پڑتا۔جب وہ زمانہ آئے گا جب مہمان خانہ کا جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا تو خدا تعالیٰ کی دوسری ہدایت پہنچ جائے گی اور لنگر اُٹھا دو کے یقینی معنے ہماری سمجھ میں آجائیں گے۔بہر حال ہمیں مہمانوں کے ٹھہرانے کے لیے اپنی قربانی پیش کرنی چاہیے۔اگر ہمیں اس سلسلہ میں تکلیف بھی اُٹھانی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔آخر جلسہ سالانہ آنے والے بھی اپنے مکانات اور رشتہ دار چھوڑ کر آتے ہیں۔ہر سال درجنوں واقعات ایسے پیش آتے ہیں کہ لوگ یہاں آئے اور اُن کے مکانات کے تالے ٹوٹ گئے اور اُن کا سامان کوٹ لیا گیا۔اور پھر ایسے واقعات بھی میں نے دیکھے ہیں کہ جلسہ سالانہ پر لوگ آئے اور اپنے بیمار بیوی بچے پیچھے چھوڑ آئے۔بعد میں تار آئی کہ اُن کا بیمار عزیز فوت ہو گیا ہے۔پچھلے سال ایک لڑکی یہاں آئی اور اُس کا بچہ فوت ہو گیا۔میں نے اُس کے رشتہ داروں سے کہا تھا کہ اگر ی بچہ بیمار تھا تو تم جلسہ سالانہ پر کیوں آئے؟ اُس کے رشتہ داروں نے کہا کہ اس لڑکی نے کہا تھا کہ بچہ مرے یا جیسے میں نے جلسہ سالانہ پر ضرور جانا ہے۔گویا اس لڑکی نے جلسہ سالانہ کی وجہ سے اپنے بچہ کی زندگی کی بھی پروا نہ کی۔یہ کتنی بڑی قربانی ہے جو آنے والے کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں تم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تم قربانی کرو اور جہاں تک ہو سکے