خطبات محمود (جلد 35) — Page 352
$1954 خطبات محمود 352 وسعت کے لحاظ سے وہ ہندوستان سے بڑا ہے اور آبادی بڑھ جانے کی وجہ سے اس کی حیثیت کی بہت بڑھ جائے گی۔وہاں پہلے ایشیائیوں کو نہیں آنے دیتے تھے۔لیکن اب یہ رو بدل گئی ہے۔وہاں سے ایک نوجوان نے مجھے تحریک کی کہ یہاں کوئی مبلغ بھیجیں۔میں نے اُسے جواب دیا کہ اس وقت ہم کوئی نیا مالی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔یوں اگر ہو سکا تو ہم سروے کے لیے کسی شخص کو بھجوا دیں گے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ آسٹریلیا میں کسی ایشیائی کو نہیں آنے دیتے۔اُس نوجوان نے جوش میں آکر گورنمنٹ کو خط لکھ دیا کہ ہمیں یہاں مبلغ بھیجوانے کی اجازت دی جائے۔اس پر حکومت نے ہمیں چٹھی لکھی کہ کیا آپ یہاں کوئی مبلغ بھیجنا چاہتے ہیں؟ ہم نے جواب دیا کہ موجودہ حالات میں تو ہمارا کوئی ارادہ نہیں کہ آپ کے ملک میں کوئی مبلغ بھیجیں لیکن آپ کے ہاں جو مشکلات ہیں وہ اگر دور ہو جائیں تو شاید ہم کوئی مبلغ بھی کی دیں۔اس پر وہاں سے فوراً جواب آ گیا کہ آپ بیشک اپنا مبلغ بھیج دیں۔اب ہم چپ کر کے بیٹھے ہیں کیونکہ مزید مالی بوجھ کے اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔گویا چندہ کم آنے کی وجہ سے تبلیغ کے جو نئے رستے کھلتے ہیں اُن سے ہم فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔غرض ایک طرف تو جماعت میں جو جوش پیدا ہوا تھا وہ اب ایک حد تک کم ہو گیا ہے اور دوسری طرف تحریک جدید کے بیرونی مبلغ اپنا کام لوگوں کے سامنے نہیں لاتے۔اور اگر وہ کوئی کام لوگوں کے سامنے لائیں بھی تو اس طرح لاتے ہیں کہ سال کی رپورٹ اکٹھی شائع کر دیتے ہیں۔اگر ہر ہفتہ یا پندرہ دن کے بعد لوگوں کے سامنے یہ بات لائی جاتی رہے کہ مثلاً امریکہ اور انگلینڈ کے مشنوں نے یہ یہ کام کیا ہے، وہاں اس قدر لوگ احمدیت میں داخل ہو گئے ہیں اور پھر وہاں کے بعض واقعات بھی بیان کیے جائیں تو چند دن کے اندراندر جماعت میں اپنے فرض کو ادا کرنے کا احساس پیدا ہو جائے۔لیکن اس وقت تک جو کچھ ہو رہا ہے بعض اوقات تو مجھے اُس پر ہنسی آتی ہے۔مثلاً الفضل میں چودھری خلیل احمد صاحب ناصر مبلغ امریکہ کا پر مضمون شائع ہو رہا ہے۔اب کوئی اُن سے پوچھے کہ تم تو وہاں تبلیغ کے لیے گئے تھے۔تم تبلیغ کی بات کرو زکوۃ کے متعلق تو تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور تم سے زیادہ بہتر زکوة پر لکھنے والے لوگ یہاں موجود ہیں۔تمہیں ایسی مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت