خطبات محمود (جلد 35) — Page 297
خطبات محمود عزت دے دی۔297 $1954 پاکستان بننے کے بعد جب میں کراچی گیا تو اُس وقت سندھ کے گورنر سر غلام حسین ہدایت اللہ تھے۔میں جب واپس روانہ ہو نے لگا تو اُن کا سیکرٹری میرے پاس آیا اور اس نے کہا سر غلام حسین ہدایت اللہ نے سعودی عرب کے دوشہزادوں کی دعوت کی ہے اور انہوں۔اس موقع پر آپ کو بھی بلایا ہے۔میں نے کہا میں تو آج چار بجے واپس جا رہا ہوں۔اس نے کہا ان کی خواہش ہے کہ آپ اس موقع پر ضرور تشریف لائیں۔میں نے کہا بہت اچھا لیکن بعد میں خیال آیا کہ دعوت تو عین جمعہ کے وقت میں رکھی گئی ہے۔میں نے کہا آپ کی دعوت کی کا وقت وہی ہے جو جمعہ کی نماز کا ہے۔اگر دعوت کا وقت پہلے یا بعد میں کر دیا جائے تو میں جاؤں گا۔بعد میں سعودی عرب والوں نے بھی کہا کہ ہم بھی سوچ رہے تھے کہ یہ وقت توی جمعہ کی نماز کا ہے۔ہم اس موقع پر کیسے آئیں گے۔خیر انہوں نے دعوت کا وقت تبدیل کر دیا۔میں نے دیکھا کہ اس دعوت میں مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی بھی مدعو تھے۔پاکستان بننے سے پہلے عثمانی صاحب کی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ انہیں ڈپٹی کمشنر بھی کسی دعوت پر بلا تا لیکن یہاں گورنر سندھ نے انہیں بلایا تھا۔پس جب کسی قوم پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اور وہ ترقی کر جاتی ہے تو اُس کے علماء کو بھی ایک نمایاں مقام حاصل ہو جاتا ہے اور درحقیقت اُن کا آگے آنے کا حق ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اُن کاموں میں حصہ نہ لیں جو اُن سے تعلق نہیں رکھتے۔جیسے پچھلے دنوں علماء نے سیاسیات میں حصہ لینا شروع کر دیا تو وہ ملامت کا ہدف بن گئے۔اسی طرح اب بھی علماء اپنا نی کام چھوڑ کر سیاسیات میں حصہ لیں گے تو وہ لوگوں کی ملامت کا ہدف بن جائیں گے۔لیکن اگر علماء ایسی باتوں میں دخل نہ دیں تو اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ جب بھی کوئی قوم ترقی کرے گی تو می علماء بہر حال زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔یورپ میں دیکھ لو کہ کنٹر بری8 کا پادری ، ایڈورڈ ہفتم کے خلاف ہو گیا تو اسے تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔اب یہ کتنی بڑی طاقت ہے کہ ایک پادری ناراض ہو جاتا ہے تو بادشاہ بھی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔پس یہ قدرتی بات ہے کہ جب کسی قوم کو عزت ملے گی تو اس کے علماء کو بھی عزت ملے گی۔