خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 293

$1954 293 خطبات محمود دین کی خدمت کر رہے ہیں اس لیے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی کو دوسرے کی خاطر رزق دے دیتا ہے۔تم ایسا نہ کرو۔ممکن ہے کہ ابو ہریرہ کی خاطر ہی اللہ تعالیٰ تمہیں رزق دے رہا ہو لیکن اُس نے آپ کی باتوں کی کوئی پروا نہ کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو ہریرہ خود فرماتے ہیں کہ بعض اوقات مجھے سات سات وقت کے فاقے آ جاتے تھے ن اس کے باوجود آپ مسجد سے نہ ہلتے۔بلکہ سارا دن وہیں بیٹھے رہتے اور اللہ تعالیٰ اُن کے رزق کا سامان کر دیتا۔اب تم اللہ تعالیٰ کے رزق کے اور معنے کرتے ہو اور صحابہؓ اس کے اور معنے سمجھتے تھے۔وہ بیشک دنیا کے کام بھی کرتے تھے لیکن دین کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔یہاں تو گزارہ بھی ملتا ہے چاہے وہ گزارہ کم ہی ہو۔لیکن اُن کو یہ گزارہ بھی نہیں ملتا تھا۔وہ اپنا اپنا کام کرتے تھے اور پیٹ پالتے تھے لیکن دینی کاموں کو نظرانداز نہیں کرتے تھے بلکہ دینی کام کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیتے تھے۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ تھے۔وہ بھی مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔اسی طرح بعض اور صحابہ تھے۔بعض کے نزدیک ان کی تعداد تین سو تھی اور بعض کے نزدیک ان کی تعداد اسی کے قریب تھی۔انہیں اصحاب الصفہ کہا جاتا تھا اور اُن کا کام یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں سنیں اور دوسرے صحابہ تک پہنچا دیا۔ان کو کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔اگر کسی کی طرف سے کھانا آ جاتا تھا تو کھا لیتے تھے ورنہ کسی سے مانگتے نہیں تھے۔ایک عورت کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ اصحاب الصفہ کو چقندر پکا کر بھیجا کرتی تھی اور وہ شوق سے انہیں کھاتے تھے۔بعض دفعہ لوگ دودھ بھیج دیتے تھے اور وہ اسے پی لیتے تھے۔اب تو بہت زیادہ ترقی ہوگئی ہے۔واقفین کے گزارے مقرر کر دیئے گئے ہیں۔اس طرح کام بہت آسان ہو گیا ہے۔بشرطیکہ انسان اپنا زاویہ نگاہ بدل لے۔اگر جماعت کے لوگ اپنا زاویہ نگاہ صحابہ کی طرح بنا لیں تو اب بھی ان کا سا طریق رائج کیا جا سکتا ہے اور اگر صحابہ سے کمزور ہوں تو موجودہ طریق پر وہ کام کر سکتے ہیں کہ معاوضہ بھی ملے اور قربانی بھی کریں۔پہلے لوگ مسجد میں بیٹھ جاتے تھے اور انہیں کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔جو کچھ کسی کی رف سے آ جاتا وہ کھا لیتے۔لیکن اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ وقف کر کے آئیں انہیں طرف