خطبات محمود (جلد 35) — Page 251
$1954 251 خطبات محمود طور۔مالدار سمجھتا ہے اور کسی کے پاس کروڑوں روپے ہوتے ہیں اور پھر بھی وہ اور مال حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔امریکہ میں بعض لوگوں کی سالانہ آمد کروڑوں ڈالر ہے اُن کو بھی مالدار کہتے ہیں۔اور غرباء کے علاقہ میں اگر کسی کے پاس سو دو سو روپیہ آ جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ کو ، یہ شخص بہت مالدار ہے۔غرض وہ دولت جو انسان کماتا ہے اور جو ظاہر میں نظر آتی ہے وہ سب کو یکساں طور پر نہیں ملی کیونکہ اس کے لیے محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور اسی وجہ سے انسانوں میں بہت بڑا تفاوت پایا جاتا ہے۔یہ تفاوت کبھی قانون کے طور پر ہوتا ہے جیسے جو زیادہ محنت کرتا ہے زیادہ کما لیتا ہے۔اور کبھی استثنا کے طور پر ہوتا ہے جیسے ماں باپ مالدار ہوں تو اُن کا بیٹا بغیر کسی محنت کے مالدار بن جاتا ہے۔لیکن ایک دوسری قسم کی دولت بھی انسان کو ملتی ہے جو حقیقتاً بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہے مگر افسوس ہے کہ انسان اُس کی قدر نہیں کرتے۔حالانکہ وہی دولت اصلی دولت ہے اور پھر وہ ایسی دولت ہے جو تمام انسانوں کو یکساں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہے۔اور وہ دولت ہے حافظہ کی فکر کی، ذہانت کی، عقل کی اور تدبر کی۔یہ دولت ہر ایک انسان کو ملی ہے۔سوائے پاگل اور فاتر العقل کے۔اور چیز بطور استثنا کے ہے۔ورنہ جو انسان بھی اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خزانہ دے کر بھیجا جاتا ہے۔اسے پیدائش کے ساتھ ہی حافظہ اور ذہانت اور فکر اور تدبر کی قوتیں عطا کی جاتی ہیں۔اگر بعد میں وہ ان کی ناقدری کرتا ہے تو یہ قوتیں گئی طور پر یا جزوی طور پر ضائع ہو جاتی ہیں۔مثلاً اگر وہ آنکھوں کو استعمال نہیں کرتا تو وہ اندھا ہو جاتا ہے، پاؤں سے نہیں چلتا تو پاؤں شل ہو جاتے ہیں، ہاتھ سے کام نہیں لیتا تو ہاتھ شل ہو جاتے ہیں۔اسی طرح اگر وہ جسم کے دوسرے اعضاء کو استعمال نہیں کرتا تو اس کی جسمانی طاقتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔اور جو شخص ان کی قدر کرتا ہے اُس کی قوتیں بڑھ جاتی ہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص محنت کرتا ہے اور اپنے اسباق کو یاد کرتا ہے تو اُس کا حافظہ تیز ہو جاتا ہے اور جو محنت نہیں کرتا اور اپنے اسباق کو یاد نہیں کرتا اُس کا حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔پھر جو لوگ بات کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اُن کی استنباط کی قوت بڑھ جاتی ہے اور جو لوگ بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اُن کی استنباط کی قوت جاتی رہتی ہے۔جو لوگ اپنے اردگرد کے ماحول پر غور