خطبات محمود (جلد 35) — Page 248
$1954 248 خطبات محمود علاج کرو گے تو جماعت کی اصلاح ہو گی۔اگر کمزور لوگوں کو پتا لگ گیا کہ جماعت کے لوگ مانی ان کی مدد کرتے ہیں تو ان کی تعداد بڑھ جائے گی۔لیکن اگر تم لوگ ان کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاؤ گے تو وہ چار سے دو اور دو سے ایک ہو کر رہ جائیں گے۔پس تم اپنی حقیقت کو سمجھو اور قوم سے اس چیز کی امید نہ رکھو جس کی امید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی۔اور تم وہ طریق اختیار نہ کرو جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر تم اس قسم کے عیوب دیکھو تو ان کے دبانے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے ماں باپ، بہن بھائی یا اپنی اولاد کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو تم سچی گواہی دوح اور جسمانی تعلق کا خیال نہ رکھو۔اس سے معلوم ہوتا ہے که قرآن کریم مسلمانوں کو اس قسم کے معاملات میں ماں باپ، بھائی یا اولاد کے ساتھ کھڑا نہیں کرتا بلکہ ان کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ تمہارا یہ کام نہیں کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، بھائی ہو، باپ ہو یا کوئی اور رشتہ دار ہو تو تم اس کی رعایت کرو۔اگر کوئی شخص مجرم ہے چاہے وہ تمہارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو تو تم سچی گواہی دو۔جھوٹ بول کر اسے بچانے کی کوشش نہ کرو اور جب تک یہ بات تم میں رہے گی عیب تو تم میں بھی رہیں گے۔میں یہ وعدہ نہیں کرتا جی کہ تم میں خائن نہیں ہوں گے، تم میں چور نہیں ہوں گے، تم میں بددیانت نہیں ہوں گے۔تم میں خائن بھی رہیں گے، چور بھی رہیں گے، بددیانت بھی رہیں گے لیکن یہ ضرور ہو گا کہ تمہاری قوم چور نہیں ہو گی، تمہاری قوم خائن نہیں ہو گی تمہاری قوم بددیانت نہیں ہو گی۔اگر تم ان اصولوں پر قائم رہے تو تم محفوظ رہو گے۔اور اس قسم کے لوگ جماعت سے اس طرح نکلتے چلے جائیں گے جس طرح چھلنی سے کوڑا کرکٹ نکل جاتا ہے۔پس تم اس نکتہ کو سمجھو اور جھوٹی عزت کے پیچھے نہ پڑو۔جھوٹی عزت کوئی فائدہ نہیں دیتی۔عزت وہی ہے جو خدا تعالی کی طرف سے آتی ہے اور ذلت وہی ہے جو خداتعالی کی طرف سے آتی ہے۔( الفضل 22 ستمبر 1954 ء) 1 : مسلم كتاب الحدود باب قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِيفِ وَغَيْرِهِ وَالنَّهْي عَنِ الشَّفَاعَةِ فِي الْحُدُودِ