خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 236

$1954 236 خطبات محمود ایک کہتا ہے میں جٹ ہوں، میں صرف کسی جٹ کو ہی اپنی لڑکی دوں گا، دوسرا کہتا ہے میں ارائیں ہوں اس لیے میں کسی غیر ارائیں کو لڑکی نہیں دوں گا۔اب دیکھو یہ ایک خیال ہی جو قائم کر لیا گیا ہے حالانکہ اس خیال میں کوئی حقیقت نہیں کیونکہ جٹ قوم بحیثیت جٹ کسی منظم حکومت میں دوسروں کی کوئی مدد نہیں کرسکی۔اسی طرح ارائیں قوم بحیثیت ارائیں کسی من حکومت میں ارائیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکی۔لیکن وطنی بطور وطنی کے ایسا کر سکتے ہیں اور کرتے ہی ہیں کیونکہ ایسی صورت میں انہیں قانون اُٹھا رہا ہوتا ہے۔مثلاً ایسٹ پاکستان پر حملہ ہو جائے تو ویسٹ پاکستان کے باشندوں کو حکومت مجبور کرے گی کہ وہ دشمن کا مقابلہ کریں لیکن اگر کسی جٹ پر حملہ ہو تو دوسرے جٹ کو مدد کرنے پر حکومت مجبور نہیں کرے گی۔مثلاً چودھری ظفر اللہ خاں صاحب جٹ قوم سے ہیں لیکن جب ان پر حملہ ہوتا ہے تو جٹ قوم کے دوسرے افراد کو ان کی کی مدد کا کوئی خیال بھی نہیں آتا۔وہ اپنی قوم کی تباہی دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی ایک دوسرے کی مدد کا خیال نہیں کرتے۔لیکن اگر ایسٹ پاکستان پر حملہ ہو جائے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ حکومت چپ کر کے بیٹھ رہے گی؟ وہ تم پر زائد ٹیکس لگائے گی، وہ جبری بھرتیاں کرے گی، وہ ریلوں اور سڑکوں پر قبضہ کرے گی، وہ تمہارے سفروں پر پابندی لگا دے گی اور چاہے تم ننگے پھرو وہ کپڑے پر منہ کر لے گی۔اس لیے کہ ایسٹ پاکستان ہماری وطنیت کا حصہ ہے اور وطنیت کا جذ بہ قومیت کے جذبہ سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ اُس کے پیچھے حکومت ہوتی ہے۔یہ جذبہ اگر ہم اپنے اندر پیدا کر لیں تو دیکھو ہمارے اندر دوسروں کی ہمدردی اور قربانی کا ماڈہ کس قدر پیدا ہو۔پاکستان ایک نیا ملک ہے۔اس کے اندر بعض چیزیں آہستہ آہستہ پیدا ہوں گی۔مثلاً اب مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا ہے۔اگر ہمارے ملک کے لوگ اُن کی بھائی سمجھ کر مدد کریں تو جب بچے اپنے ماں باپ کو مدد کرتے دیکھیں گے تو انہیں بنگالیوں کی تکلیف دیکھ کر خود بخود اُن سے ہمدردی پیدا ہو جائے گی۔پس تم حسب توفیق اس چندہ کے لیے وعدے کرو اور پھر ان وعدوں کو جلد ادا کر دو۔چھ سات ماہ تک ادا ئیگی کو لیٹ نہ کر دیا جائے کیونکہ اُس وقت تک اس رقم کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔اگر کوئی شخص غرق ہو رہا ہو تو یہ نہیں ہوتا کہ دیکھنے والا کہے کہ میں پہلے تیرا کی کے فن میں مہارت حاصل کر لوں پھر اس غرق ہونے