خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 234

$1954 234 خطبات محمود وہ حضرت خلیفہ اول کے پاس کثرت کے ساتھ مریض آتے ہیں اور انہیں انتظار میں گھنٹوں بیٹھنا کی پڑتا ہے میں صبح صبح جا کر مریضوں کے لیے نسخے لکھوں گا تا کہ انہیں تکلیف نہ ہو۔اس پر و بھی ہنسے اور ہم بھی۔ہم میر صاحب سے مذاق بھی کیا کرتے تھے لیکن وہ تو بچوں کی باتیں تھیں بڑوں کو یہ باتیں نہیں سجتیں۔بڑوں میں سمجھ، فہم اور فراست ہوتی ہے۔وہ اگر ایسا کریں کہ ادھر لڑکا سکول میں داخل کیا اور اُدھر اس کی تنخواہ کا مطالبہ شروع کر دیا تو وہ پاگل سمجھے جائیں گے۔حالانکہ کام سکھانے والا تو اُس پر احسان کر رہا ہے۔جب وہ اچھی طرح فن سیکھ لے گا تو اپنا کام الگ شروع کر لے گا۔یورپ کی کتابیں پڑھ لو۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی پیشہ ایسا نہیں جس میں شاگرد کچھ لے۔وہ کچھ لیتا نہیں بلکہ استاد کو کچھ رقم دیتا ہے۔استاد بھی سکھائے گا اور اس کے بدلہ میں کچھ لے گا بھی۔لیکن یہاں ایسا نہیں۔یہاں اگر کوئی کام سیکھنے کے لیے جاتا ہے تو پندرہ دن کے بعد یہ شکایت کرنے لگ جاتا ہے کہ وہ مجھے تنخواہ نہیں دیتا۔اگر ہمارے دوست پیشوں کی طرف توجہ کرتے تو ہماری جماعت میں بھی پیشے آجاتے۔مگر ابھی ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے۔اگر اس کے پاس روپیہ ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ان میں ہر ایک کچھ نہ کچھ دیتا ہے۔بیچ میں کچھ بے ایمان بھی آ جاتے ہیں لیکن پھر بھی اکثریت بے ایمانی سے محفوظ رہتی ہے۔دوسری انجمنوں میں کھانے والے زیادہ ہوتے ہیں اس لیے روپیہ نظر نہیں آتا۔ہم بے ایمانی کو پوری طرح روک تو نہیں سکتے لیکن جماعت کی اکثریت خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی ہے جو ایماندار ہے۔اور اگر ایماندار نہیں تو اس میں اتنی ہی غیرت ضرور ہے کہ جماعت کا روپیہ نہیں کھانا۔چنانچہ دیکھ لو سیکرٹریان مال ہمارے ملازم نہیں لیکن وہ روپیہ جمع کرتے ہیں اور یہاں بحفاظت پہنچاتے ہیں۔یہ مثال اور کہیں بھی نہیں پائی جاتی کہ سینکڑوں روپے غریبوں کے پاس جمع ہوں اور وہ ملازم بھی نہ ہوں لیکن روپیہ بحفاظت مرکز میں پہنچ جاتا ہو۔صرف چند مثالیں ایسی ملی ہیں کہ انہوں نے روپیہ کسی حد تک محر دبر د کر لیا لیکن ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے سارا روپیہ کھا لیا ہو یا پھر اُسے واپس نہ کیا ہو۔