خطبات محمود (جلد 35) — Page 225
$1954 225 خطبات محمود کھچاؤ نے بڑھنا شروع کیا اور دوسری طرف ورم بجائے کم ہونے کے زیادہ ہونا شروع ہو گیا۔جہاں تک درد کا تعلق تھا ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ یہ طبعی ہے۔جب نرو ( Nerve) بڑھنا شروع کرتی ہے تو درد ہوتا ہی ہے اس کے لیے فکر کی ضرورت نہیں۔لیکن اس درد کے ساتھ زخم کے او پر اس قسم کی جلن محسوس ہونے لگی جیسے کوئی شخص لوہا تپا کر ہاتھ میں پکڑ لے۔اس ہاتھ میں جو کیفیت گرم لوہے کو پکڑتے وقت پیدا ہوتی ہے وہی کیفیت اس جلن کی تھی جو زخم کے اوپر کے حصہ میں درد کے ساتھ ساتھ محسوس ہوتی تھی اور یہ ایک علیحدہ چیز تھی۔درد سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔پھر بعض اوقات معمولی سے جھٹکے کے ساتھ گردن میں بیچ پڑ جاتا تھا۔مثلاً گلے کا بٹن بند کرنے کے لیے سر نیچا کیا تو بیچ پڑ گیا۔یہ بیچ ہاتھ کا سہارا دے کر اور گردن دبا کر درست ہوتا تھا۔وَاللهُ اَعْلَمُ یہ تکلیف ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق طبعی تھی یا غیر طبعی۔کراچی ، کوئٹہ، پشاور اور ربوہ سے متعدد خطوط مجھے ملے کہ زخم والی جگہ کا ڈاکٹروں سے معائنہ کرانا چاہیے لیکن میں نے ناصر آباد سے کراچی جانا پسند نہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ اب آخری ایام ہیں چند دنوں کے بعد پنجاب چلے جانا ہے۔ربوہ جانے کے بعد لاہور جاؤں گا اور ڈاکٹروں کو دکھاؤں گا۔ساتھ ہی میں نے کراچی کے سرجن کو مشورہ کے لیے لکھ دیا۔سرجن کے مشورہ کے مطابق جو جواب مجھے حیدر آباد میں ملا وہ یہی تھا کہ جو علامات پیدا ہوئی ہیں وہ طبعی ہیں۔لیکن ورم کا ابھی تک قائم رہنا بلکہ بعض اوقات بڑھ جانا، یہ چیز اس قابل ہے کہ اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔یہ چیز طبعی نہیں اور ہمارے اندازہ سے باہر ہے۔خیال ہو سکتا ہے کہ کوئی نئی بیماری نہ شروع ہو گئی ہو۔بہر حال یہ حالات ہیں۔ناصر آباد میں تکلیف کی جو شدت تھی وہ وہیں سے کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔اب بھی تکلیف کم ہے لیکن اگر زخم والی جگہ کو دبایا جائے تو ایک قسم کی جلن پیدا ہوتی ہے۔میرا ارادہ ہے کہ اس ہفتہ لاہور جا کر زخم کی جگہ سرجن کو دکھاؤں۔کراچی جماعت نے یہ انتظام کیا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو وہ کراچی کے سرجن کو کار پر ربوہ لے آئیں۔لیکن میں نے یہی مناسب سمجھا کہ میں پہلے لاہور کے سرجن سے مل لوں۔اگر اس کی رائے میں کسی دوسرے سرجن سے مشورہ کی ضرورت محسوس نہ ہوئی تو کراچی کے سرجن کو بلانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔