خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 224

$1954 224 خطبات محمود ہے۔تعلق نہیں رہا اور اس کی وجہ سے سر کے پچھلے چوتھائی حصہ میں بے حسی پیدا ہو گئی ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت کئی ہوئی Nerve اپنے آپ کو دوسر دوسرے حصہ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرے گی اور کسی نہ کسی طرح رستہ نکال کر کسی دوسری Nerve سے مل جائے گی اور اس طرح دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔ان کا یہ خیال بھی تھا کہ جب اس قسم کی جدوجہد شروع ہوتی ہے تو در دیں بڑھ جایا کرتی ہیں اور درد کے بڑھ جانے کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نئی بیماری شروع ہو گئی ہے لیکن دراصل وہ خدا تعالیٰ کے اس قانون کا اظہار ہوتا ہے جو اس نے پہلی بیماری کے امالہ 1 اور ازالہ کے لیے بنایا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے اس قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے دو تین ماہ کے بعد کٹی ہوئی Nerve میں بیداری پیدا ہوئی۔اس کی بعض شاخیں پیدا ہو گئیں اور اس نے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے کہ کسی اور چیز سے مل جائے۔لیکن ساتھ ہی ڈاکٹروں کا یہ خیال بھی تھا کہ جسم کے اوپر جو ورم پیدا ہو گیا تھا وہ جلد اتر جائے گا۔کراچی تک تو وہ ورم زیادہ نہیں تھا۔کراچی کے بڑے سرجن کو جو گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ہیں ورم دکھایا گیا تو انہوں نے بھی بتایا کہ یہ تکلیف عارضی ہے کچھ دنوں تک ہٹ جائے گی۔انہوں نے مالش بھی تجویز کی جو سر کے پٹھوں کو حرکت دینے والی تھی۔اُن کا خیال تھا کہ اس مالش کی وجہ سے عارضی تکلیف دور ہو جائے گی۔اور عارضی طور پر اس مالش کا فائدہ بھی ہوا لیکن ورم دور نہ ہوا بلکہ بعض اوقات یوں معلوم ہوتا ہے کہ ورم بجائے کم ہونے کے بڑھنے لگا ہے۔جب دردیں زیادہ ہوئیں تو سرجن کی یہ رائے تھی کہ یہ دردیں طبعی تقاضا کی وجہ سے ہیں۔کئی ہوئی Nerve نے پھیلنا شروع کر دیا ہے کیونکہ اس کی نے کسی اور نرو سے مل کر اپنی زندگی کو قائم رکھنا ہے۔بیچ میں چونکہ گوشت آ جاتا ہے اس لیے کہیں گوشت مروڑا جاتا ہے اور کہیں گوشت چر جاتا ہے اس لیے درد زیادہ ہو جاتی ہے۔لیکن کی جب میں کراچی سے ناصر آباد پہنچا تو شروع شروع میں تو یہ معلوم ہوا کہ یہاں کی آب و ہوا کی وجہ سے پہلے کی نسبت تکلیف میں افاقہ ہے۔بعد میں جب ٹھنڈی ہوا چلی اور سندھ میں ان دنوں رات کے وقت عموماً ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تو اس کی وجہ سے بعض اوقات گردن میں کھچاؤ محسوس ہونے لگا اور پھر اس کھچاؤ نے بڑھنا شروع کیا۔ایک طرف تو گردن کے