خطبات محمود (جلد 35) — Page 12
$1954 12 خطبات محمود پس مسجد ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں داخل ہوتے ہی انسان کے جذبات محبت اُبھر پڑتے ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ گو ابھی میں نے خدا کو نہیں دیکھا مگر میں اس جگہ آ گیا ہوں جہاں لوگ خدا کو دیکھا کرتے ہیں۔شاید کسی دن میری بھی خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی باری آ جائے۔اسی لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدِ 1 تم مساجد میں مزین ہوتی کر جایا کرو۔لوگ بڑے افسروں کو ملنے جاتے ہیں یا کچہریوں اور درباروں میں جاتے ہیں تو اچھے لباس پہنتے ہیں ، نہا دھو کر جاتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں کیونکہ سمجھتے ہیں کہ اُس جگہ بہت سے لوگ بادشاہ یا گورنر کو دیکھنے آئیں گے۔پس وہ خوب تیاریاں کر کے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح دنیا کے دربار یا شاہی عمارات انسانی بادشاہوں کے سامنے لے جانے والی چیزیں ہیں اور وہ ان کی آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے باشاہوں کو لے آتی ہیں اسی طرح مسجد خدا کے سامنے انسان کو پہنچا دیتی ہے۔اگر چھوٹے چھوٹے حاکموں کے سامنے جانے کے لیے وہ تیاری کرتے ہیں تو اَحْكُمُ الْحَاكِمِيْنَ سے ملنے کے لیے وہ کیوں تیاری نہیں کرتے؟ تو مساجد اپنی ذات میں بڑی برکت رکھتی ہیں۔اگر مجبوراً مسجد کو چھوڑنا پڑے تو اور بات ہے۔جیسے بعض لوگ اپنی ضد اور تعصب میں اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ خدا کی مسجد کو اپنی مسجد سمجھنے لگ جاتے ہیں اور دوسروں کو اس میں نماز بھی پڑھنے نہیں دیتے۔ایسی حالت میں اگر کوئی شخص مسجد کو چھوڑ دیتا ہے اس لیے کہ لوگ اسے مسجد میں نہیں جانے دیتے۔جیسے پولیس پہرہ پر بیٹھی ہوئی ہو تو انسان اگر اُس جگہ جانا بھی چاہتا ہے تو رک جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی طاقتور آدمی کسی کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دے تو وہ رُک جاتا ہے لیکن کی اُس کے دل کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنی ایک پیاری اور عزیز چیز کے پاس جانا چاہتا تھالیکن مجھے روک دیا گیا اور وہ لوگ جو اپنے دلوں میں خشیت اللہ رکھتے ہیں اُن ان باتوں کا اثر بھی ہوتا ہے۔اسی جلسہ پر ایک دوست نے مجھے ایک واقعہ سُنایا جس کا میرے دل پر بڑا اثر ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں ایک احمدی دوست نے اپنے خرچ پر مسجد تعمیر کی جس میں وہ نمازیں پڑھا کرتے تھے۔فساد کے دنوں میں لوگوں کو جوش آیا اور انہوں نے اس احمدی سے کہا