خطبات محمود (جلد 35) — Page 179
$1954 179 خطبات محمود سو جانا ہو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ ایک دہریہ نے بحث کی اور کہا کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا کیا ثبوت ہے؟ حضرت علیؓ نے کہا کہ ثبوت تو بڑے بڑے ہیں لیکن میں تمہیں ایک موٹی بات بتا دیتا ہوں۔تمہارا دعوی ہے کہ خدا کوئی نہیں اور میرا دعوی ہے کہ خدا ہے۔میں اس کی کوئی دلیل نہیں دیتا کہ میں سچا ہوں اور تم سچے نہیں۔فرض کرو میں سچا ہوں اور تم جھوٹے ہو یا تم سچے ہو اور میں جھوٹا ہوں۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں جھوٹا ہوا اور تم سچے ہوئے تو میرا کیا حشر ہو گا۔میں کہتا ہوں کہ خدا ہے اور تم کہتے ہو کہ خدا نہیں۔اگر تمہاری بات کچی ہے اور خدا کوئی نہیں تو میرا حساب تو ہونا ہی نہیں۔اگر میں مر گیا تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔جس طرح تم مٹی ہو جاؤ گے اُسی طرح میں بھی مٹی ہو جاؤں گا۔لیکن فرض کرو میں سچا ہوں اور تم جھوٹے ہو اور میں یہ کہتا ہوں کہ خدا ہے تو اگر مرنے کے بعد میری بات سچی نکلی تو تمہیں جوتے پڑیں گے یا نہیں؟ پس اگر تمہارا عقیدہ سچا ہے تو مجھے کوئی خطرہ نہیں اور اگر میرا عقیدہ سچا ہے تو پھر تمہارے لیے خطرہ ہے۔اسی طرح اگر تم مٹی میں مل جانے والے ہو، مرنے کے بعد تمہیں کوئی انعام نہیں ملے گا، کوئی نئی زندگی نہیں ملے گی تو کم سے کم ان نیکیوں کے نتیجہ میں دنیا کے لوگ تو تمہیں یاد کرتے رہیں گے کہ فلاں بڑا اچھا آدمی تھا۔پس ان نیکیوں کے بجا لانے میں تمہارا نقصان کوئی نہیں۔لیکن اگر خدا نے حساب لینا ہے اور اگر مرنے کے بعد تم نے جنت یا دوزخ میں جانا ہے تو تم سوچو کہ اگر تم صرف منہ سے کہتے رہے لیکن عمل نہ کیا تو تم وہاں کیا کرو گے؟ قرآن کریم میں آتا ہے کہ مرنے کے بعد جب لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ کاش! ہمیں پھر دنیا میں واپس کو ٹایا جائے تا کہ ہم نیک اعمال بجالائیں۔2 پس ایک چیز جو روزانہ نظر آتی ہے کیوں انسان اُس کے متعلق غور نہیں کرتا۔ہر شخص جانتا ہے کہ ہر ایک نے ایک دن مرنا ہے۔کوئی جوان ہو کر مرتا ہے کوئی بوڑھا ہو کر مرتا ہے، کوئی بچپن میں مر جاتا ہے اور پھر کوئی موٹر کے نیچے آکر مرتا ہے، کوئی چھت کے نیچے آ کر مرتا ہے، کوئی بجلی لگنے سے مرتا ہے، کوئی ڈوب کر مرتا ہے ، کوئی بیماری سے مرتا ہے۔ایسا تو ہم نے کوئی نہیں دیکھا جو مرتا نہیں۔پس اگر وہ قربانی اور ایثار کرتا ہے اور خدا کوئی نہیں، حساب کوئی نہیں تو مرنے کے بعد اسے نقصان کچھ نہیں۔اور اگر خدا ہے اور حساب ہے اور اُس نے