خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 177

$1954 177 خطبات محمود جھوٹ بول رہے ہیں۔1 اب بات انہوں نے سچ کہی تھی مگر پھر انہیں جھوٹا کیوں کہا؟ اس مانی لیے کہ زبان نے تو سچ کہا تھا مگر اُن کا دل اس عقیدہ کو جھٹلاتا تھا۔پس چونکہ اُن کا دل اس کو جھٹلاتا تھا اس لیے چاہے وہ سچا کلمہ کہہ رہے تھے خدا تعالیٰ نے اُن کی مذمت کی اور اُن کے جھوٹ کو ظاہر کر دیا تو خالی زبان کی باتیں کافی نہیں ہوتیں۔انسان کو ہمیشہ اپنے عمل اور اپنے کردار سے اپنی خوبی لوگوں پر ظاہر کرنی چاہیے۔ہم نے دیکھا ہے بیسیوں آدمی مخلصانہ باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن وقت پر اُن کی دھوکا بازی اور غداری ظاہر ہو جاتی ہے۔اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے متعلق بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے اندر اخلاص نہیں لیکن مشکلات کے وقت وہ قربانی کر جاتے ہیں۔پس مومن کو ہمیشہ اپنے اعمال کی درستی کی فکر کرنی چاہیے۔ظاہر اعمال میں عبادتیں اور نمازیں ہیں جو پانچ وقت بندوں کی خدا تعالیٰ سے ملاقات کرواتی ہیں مگر کتنے ہیں جو نمازوں کے پابند ہیں؟ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ سو فیصدی احمدی نماز کے پابند ہیں مگر اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ سو فیصدی احمدی نمازوں کے پابند ہیں۔مسلمان تو خیر تیرہ سو سال کے بعد بڑھے ہوئے تھے افسوس ہے کہ بعض احمدی پچاس ساٹھ سال میں ہی کمزور ہو گئے ہیں۔تیرہ سو سال تک مسلمانوں نے یہ بات نبھائی۔وہ کہتے تھے کہ نماز پڑھو اور خود بھی نماز پڑھتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ زکوۃ دو اور خود بھی زکوۃ دیتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ حج کرو اور خود بھی حج کرتے تھے۔اب تیرہ سو سال کے بعد ان میں ضعف اور کمزوری پیدا ہو گئی ہے اور انہوں نے کہنا تو شروع کیا کہ نماز پڑھو مگر نماز پڑھنے کا شوق ان میں نہیں رہا۔انہوں نے کہنا شروع کیا کہ زکوۃ دو اور خود زکوۃ نہیں دیتے۔انہوں نے کہنا شروع کیا کہ حج کرو مگر اکثر مسلمان استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے۔لیکن بعض احمد یوں میں تو ابھی سے کمزوری کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔تم اسے زمانہ کا اثر کہہ لو، یورپ کا اثر کہہ لو، دنیا داری کا اثر کہہ لو ، بہر حال جس طرح وہ اپنے ماحول کے اثر کے نیچے تھے اسی طرح ہم اپنے ماحول کے اثر کے نیچے ہیں لیکن ہم میں کمزوری اُن سے زیادہ جلدی آگئی ہے۔ہماری مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی تیرہ چودہ سال کا ہو اور وہ گہڑا ہو جائے۔ایسے شخص کو دیکھ کر سب کو رحم ہی آئے گا کہ ابھی تو اس نے جوانی بھی نہیں دیکھی اور یہ پہلے ہی گبڑا ہو گیا ہے۔