خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 152

$1954 152 خطبات محمود آئندہ بڑی قربانیوں کے لیے تیار کر دے گی اور ان کے اندر ایک نیا عزم اور نئی ہمت پیدا دے گی۔بہرحال یہاں کی جماعت اپنی جدو جہد اور قربانی کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔کچھ اس میں اس بات کا بھی دخل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بعض خاندانوں کو دین کی خدمت کا خاص موقع عطا فرما دیتا ہے اور ان کی وجہ سے جماعت ترقی کر جاتی ہے۔سترہ اٹھارہ سال کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوں اور میرے سامنے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب لیٹے ہوئے ہیں اور گیارہ بارہ سال کی عمر کے معلوم ہوتے ہیں۔اُن کے دائیں بائیں چودھری عبداللہ خاں صاحب اور چودھری اسد اللہ خاں صاحب بیٹھے ہیں اور ان کی عمریں بھی آٹھ آٹھ ، نو نو سال کے بچوں کی سی معلوم ہوتی ہیں۔تینوں کے منہ میری طرف ہیں اور تینوں مجھ سے باتیں کر رہے ہیں اور بڑی محبت سے میری باتیں سن رہے ہیں۔اُس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں اور جس طرح فراغت کے وقت ماں باپ اپنے بچوں سے باتیں کرتے ہیں اسی طرح میں ان سے باتیں کر رہا ہوں۔جس وقت میں نے یہ رویا دیکھا اُس وقت ان کے بھائی چودھری شکر اللہ خاں صاحب بھی زندہ تھے مگر رویا میں میں نے اُن کو نہیں دیکھا، صرف ان تینوں بھائیوں کو دیکھا۔چنانچہ اس رؤیا کے بعد اللہ تعالیٰ نے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کو جماعت کا کام کرنے کا بڑا موقع دیا اور لاہور کی جماعت نے ان کی وجہ سے خوب ترقی کی۔اس کے بعد چودھری عبداللہ خاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کراچی میں کام کرنے کی توفیق دی اور چودھری اسد اللہ خاں صاحب آجکل لاہور کی جماعت کے امیر ہیں۔لیکن بہر حال جماعت کے اندر بھی کوئی خوبی ہوتی ہے۔جب اسے اچھا کام کرنے والا امیر مل جاتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوتا ہے تو اچھے آدمی کو اچھی جماعت مل جاتی ہے اور اچھی جماعت کو اچھا امیر مل جاتا ہے اور جب خرابی پیدا ہو جائے تو بعض جگہ بُرا امیر مل جاتا ہے اور بعض دفعہ اچھے امیر کو بُری جماعت مل جاتی ہے جو اُس کے حوصلوں کو پست کر دیتی ہے۔بہر حال یہ جماعت ایک رنگ میں مرکزی جماعت ہونے کی وجہ سے بہت اہم ہے اور اس وجہ سے اسے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ان شبہات کو دور کرنے کی کوشش