خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 151

$1954 151 خطبات محمود دوست بھی اس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور پہلے وہ اسی کی پناہ میں تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دوسرے مسلمانوں کو ماریں پڑ رہی ہیں اور وہ آرام سے مکہ میں پھرتے ہیں تو انہوں نے اس رئیس سے جا کر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ میں نہیں رہنا چاہتا۔چنانچہ اس نے اعلان کر دیا عثمان اب میری پناہ میں نہیں۔اسے یہ جرات تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ سب لوگوں کے سامنے ان کی مدد کرتا لیکن جب اُن کی آنکھ نکل گئی تو جس طرح کسی غریب آدمی کے بچے کو کوئی امیر آدمی کا بچہ مارے پیٹے تو غریب ماں اپنے بچہ کو ہی مارتی ہے اور اُسی پر غصہ نکالتی ہے۔اس طرح وہ اُن مارنے والوں پر تو غصہ نہیں نکال سکتا تھا اُس نے عثمان پر ہی غصہ نکالا اور کہا کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میری پناہ سے نہ نکل؟ اب دیکھا تو نے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلا !! حضرت عثمان بن مظعونؓ نے جواب دیا کہ چا! تم تو مجھ پر اس لیے خفا ہو رہے ہو کہ میری ایک آنکھ کیوں نکلی۔خدا کی قسم! میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لیے تڑپ رہی ہے۔3 اب کیا کوئی عقلمند اُس وقت قیاس کر سکتا تھا کہ اُن کی ایک آنکھ کا نکلنا دین کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔واقعہ یہی ہے کہ اُس وقت یہ تمام قربانیاں بالکل بیکار نظر آتی تھیں لیکن اگر عثمان بن مظعون کی ایک آنکھ خدا تعالیٰ کے راستے میں نہ نکلتی ، اگر عثمان بن مظعون کی دوسری آنکھ خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لیے تڑپ نہ رہی ہوتی ، اگر عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے نہ مارے جاتے، اگر مکہ کے ابتدائی دور میں صحابہؓ اپنی جانیں قربان نہ کرتے تو مسلمان وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے بدر اور اُحد کے موقع پر پیش کیں، وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے احزاب کے موقع پر پیش کیں۔یہی بے مصرف قربانیاں تھیں کی جنہوں نے اُن کے اندر جوش پیدا کیا، اُن کے اندر اخلاص پیدا کیا اور انہیں قربانی کے نہایت اعلیٰ مقام پر لا کر کھڑا کر دیا۔تو وہ دوست جو مجھے ملنے کے لیے آتے رہے لیکن میں اُن سے مل نہیں سکا۔میں ہوتا انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس بارہ میں اپنی تکلیف کی وجہ سے معذور تھا۔مجھے دکھ بھی ہے کہ وہ آتے ہیں اور میں مجلس میں بیٹھ نہیں سکتا۔لیکن میں سمجھتا ہوں اُن کی یہی قربانی انہیں