خطبات محمود (جلد 35) — Page 116
$1954 116 خطبات محمود صفوں میں کسی غیر معروف آدمی کو نہ بیٹھنے دو۔اب یہ ہوا ہے کہ باہر والے تم کو گالیاں دے کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور تم نے شرم کے مارے گردن نیچے ڈال لی۔لیکن نتیجہ کیا ہوا ؟ کسی شاعر نے کہا ہے عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پر ڈالا جو بار اپنا جماعت نے کہہ دیا کہ یہ لو چندہ اور اس سے کچھ جان قربان کرنے والے لوگ ملازم رکھ لو۔ہم جانیں پیش نہیں کر سکتے۔ہماری طرف سے چندہ لے لو۔لیکن ہماری قوم نے اگر زندہ رہنا ہے تو اسے مالی قربانی کے ساتھ ساتھ جانی قربانی بھی کرنی پڑے گی۔اور اگر اس نے مرنا ہی ہے تو شرافت کی موت یہ ہے کہ بزدلی اور ذلت کو تسلیم کر لے اور مر جائے۔کہتے ہیں کوئی پٹھان تھا اُس نے اپنی مونچھیں اونچی کر لیں اور بعد میں اتنا غلو کیا کہ وہ تلوار ہاتھ میں لے لیتا اور جس شخص کی مونچھیں اونچی دیکھتا اُسے کہتا تم اپنی مونچھیں نیچی کر لو ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔مونچھیں اونچی رکھنے کا حق صرف مجھے ہے۔لوگ اپنی عزت کو بچانے کی خاطر مونچھیں نیچی کر لیتے۔کوئی غریب دکاندار تھا وہ روزانہ یہ نظارہ دیکھتا کہ وہ پٹھان تلوار ہاتھ میں لے کر نکل آتا ہے اور لوگ عزت کو بچانے کی خاطر اپنی مونچھیں نیچی کر لیتے ہیں۔اُس نے خیال کیا کہ ابھی تک اسے کسی نے سبق نہیں دیا۔اُس نے چھابڑی اُٹھا لی اور گھر چلا گیا اور کچھ دنوں تک گھر ہی رہا اور مونچھوں پر چربی لگاتا رہا۔جب مونچھیں بڑھ گئیں تو اس نے تلوار کمر میں باندھ لی اور باہر نکل آیا۔لوگوں نے اُس پٹھان کو اطلاع دی کہ ایک اور شخص اونچی مونچھوں والا آیا ہے۔چنانچہ پٹھان تلوار لے کر باہر آ گیا اور اس دکاندار سے کہنے لگا۔تم نے اپنی مونچھیں اونچی کیوں رکھی ہیں؟ اُس نے کہا مجھے ایسا کرنے کا حق ہے۔پٹھان نے کہا تمہارا حق نہیں میرا حق ہے۔دکاندار نے کہا میں تو اپنی مونچھیں اونچی رکھوں گا۔پٹھان نے کہا اگر تم میری بات ماننے کے لیے تیار نہیں تو تمہیں مجھ سے لڑنا ہو گا۔دکاندار نے کہا اچھا لڑ لو۔پٹھان نے کہا لڑائی کے لیے وقت مقرر کر لو۔دکاندار نے کہا کر لو۔لیکن ایک بات ہے۔ہم میں سے ایک نے ضرور مرنا ہے اور اس کے بچوں نے یتیم رہ جانا ہے حالانکہ اُن کا کوئی قصور نہیں۔اس لیے بہتر یہ ہے کہ لڑائی سے پہلے تم اپنے بیوی بچوں کو مار آؤ اور میں اپنی بیوی بچوں کو مار آتا