خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 84

$1954 84 خطبات محمود شیخ رحمت اللہ صاحب پر نظر ڈالتے تو جھٹ اپنی آنکھیں نیچی کر لیتے اور محبت کی جھلک اُن۔میں دکھائی دینے لگتی۔پس اللہ تعالیٰ یہ تو چاہتا ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا جائیں مگر یہ نہیں چاہتا کہ یہ تباہ ہو جائیں۔غلطی اور ہوتی ہے اور غضب اور چیز ہے۔ہر غلطی کے نتیجہ میں غضب پیدا نہیں ہوتا۔تمہارے بچے کئی غلطیاں کرتے ہیں مگر تمہیں اُن کی ہر غلطی پر غصہ نہیں آتا اور جب غصہ بھی آتا ہے تو وہ مرکب ہوتا ہے یعنی اُس غصہ کے ساتھ محبت بھی شامل ہوتی ہے۔خالص غصہ اپنے پیارے پر کبھی نہیں آیا کرتا۔ایک دفعہ بچپن میں مجھے خیال پیدا ہوا کہ لیکھرام کا رڈ براہین کا جواب لکھنا چاہیے۔اُس نے کسی جگہ قرآن کریم کی بعض آیتوں پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ متضاد خیالات ہیں۔یا تو انسان کو غصہ آئے گا اور یا محبت پیدا ہو گی۔غصہ اور محبت اکٹھے نہیں ہو سکتے۔بچپن میں مجھے مرغیاں پالنے کا بہت شوق تھا۔اس وجہ سے مرغیوں کی کیفیتیں مجھے وب یاد تھیں۔میں نے جواب میں لکھا کہ تم کہتے ہو ایک وقت میں محبت اور غصہ جمع نہیں ہو سکتے۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مرغی اپنے بچوں کو لیے پھرتی ہے کہ اچانک چیل حملہ کر دیتی ہے۔وہ اُس کے مقابلہ کے لیے ایک طرف غصہ میں گو دتی ہے اور دوسری طرف اپنے ایک پر کو اپنے بچوں پر پھیلا دیتی ہے۔اس طرح ایک ہی وقت میں اُسے غصہ بھی آ رہا ہوتا ہے اور اُس کے اندر محبت بھی پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔پس یہ غلط بات ہے کہ ایک وقت میں یہ دونوں جذبات اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اسی طرح جب کسی شخص کے ساتھ دیرینہ تعلق ہوتا ہے تو اُس کی باتوں پر خالص غصہ کبھی نہیں آتا۔محبت کا جذبہ بھی اُس کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ب کوئی گنہگار بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور تو بہ کرتا ہے تو اُس کی اس تو بہ پر اللہ تعالیٰ کو اُس ماں سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کا کھویا ہوا بچہ اُسے مل جائے۔یہی کیفیت انسانی قلوب کی بھی ہونی چاہیے۔میں سمجھتا ہوں اس بارہ میں ہم پر پہا حق اُن لوگوں کا ہے جو غیر مبائع ہیں اور دوسرا حق اُن لوگوں کا ہے جن کو ہم غیر احمدی