خطبات محمود (جلد 35) — Page 83
$1954 83 خطبات محمود وہ کہنے لگا یہ تو بڑی عمر کے لگتے ہیں، وہ تو نہیں لگتے جن کا حضرت صاحب نے ذکر کیا ہے۔غرض ان خاندانوں میں بھی احمدیت سے تعلق کا احساس پایا جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی پرانی محبت کو تازہ کیا جائے اور انہیں اپنے قریب کیا جائے۔میرا ایک عزیز تھا جو بچپن میں میرے ساتھ بڑی محبت رکھتا تھا۔جب 1914ء میں اختلاف پیدا ہوا تو وہ غیر مبائع ہو گیا اور سخت مخالفت پر اتر آیا۔میں ایک دفعہ باہر گیا تو وہ مجھے سے ملنے کے لیے آ گیا۔وہ ابھی آہی رہا تھا کہ اُسے دیکھ کر وہاں کے امیر جماعت نے مجھے کہا کہ فلاں شخص آ رہا ہے اور وہ بڑا بدگو ہے۔ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کی کوئی بے ادبی کر بیٹھے۔میں نے کہا گھبراؤ نہیں۔مجھے پتا ہے کہ اُسے کسی زمانہ میں میرے ساتھ بڑی محبت ہوا کرتی تھی۔اس لیے یہ بے ادبی نہیں کر سکتا۔بہر حال وہ صحن میں داخل ہوا۔صحن سے برآمدہ میں آیا اور برآمدہ سے آگے کمرہ میں داخل ہوا۔اندر میں بیٹھا ہوا تھا۔جونہی اُس نے میری طرف نظر اُٹھائی اور ادھر میری نظر اُس پر پڑی تو یکدم اُس کی آنکھوں میں سے آنسو بہنے لگ گئے۔میں نے کہا لو! تم تو کہتے تھے یہ بے ادبی نہ کر بیٹھے، اور اس پر تو دیکھتے ہی رقت طاری ہو گئی ہے۔غرض یہ تو دینی معاملہ ہے۔دنیوی عشق جو بالکل جھوٹا اور ناپائیدار ہوتا ہے اُس کے متعلق بھی شاعر کہتے ہیں جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے آخر یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں بیٹھے ہیں اور انہوں نے آپ کی خدمتیں کی ہیں۔ان کو اور ان کی اولادوں کو بیچانا اور پھر اُن کے اندر محبت دیرینہ کے جذبات کو زندہ کرنا، یہ بھی تو ہمارا ہی فرض ہے۔اگر تم انہی لوگوں کو سنبھال لو تو لاہور میں ہماری جماعت کئی گنا طاقتور ہو جائے۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی جگہ تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے اردگرد اور بھی بہت سے لوگ بیٹھے ہیں۔اُن میں سے بعض غیر مبائع بھی ہیں جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ناراض ہیں۔انہی لوگوں میں میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب کو بھی دیکھا مگر میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بات کرتے کرتے جب