خطبات محمود (جلد 35) — Page 81
$1954 81 خطبات محمود پیدا ہو جائے گا کہ اُس فاصلہ کو پُر کرنا تمہارے لیے مشکل ہو جائے گا۔پس اپنے اندر بیداری پیدا کرو اور جس طرح دریا میں کشتی پھنستی ہے تو مرد اور عورتیں اور بچے سب مل کر زور لگاتے ہیں کہ کشتی منجدھار سے نکل جائے اُس طرح تم بھی اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دو۔مجھے یاد ہے ہم ایک دفعہ کشمیر گئے۔سرینگر کے پاس ایک چھوٹی سی جھیل ہے جو ڈل کہلاتی ہے۔اُس کے قریب سے ہی دریائے جہلم گزرتا ہے اور دریا میں سے ایک نہر کاٹ کر اُس ڈل کے سامنے سے گزار دی گئی ہے۔اُس ڈل میں نہر کا دروازہ کھلتا ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دریا کا پانی اونچا ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں نہر کا پانی بھی اونچا ہو جاتا ہے اور ڈل میں زور سے پانی گرنے لگ جاتا ہے۔اُس وقت نیچے سے اوپر کی طرف کشتی لے جانا مشکل ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دریا کا پانی نیچا ہو جاتا ہے اور ڈل کا پانی اونچا ہوتا ہے۔جب دریا اور ڈل کا پانی برابر ہو تب تو کشتیاں آسانی سے ادھر اُدھر آتی رہتی ہیں۔لیکن جب ایک طرف کا پانی اونچا نیچا ہو تو پھر کشتی چلانے میں لوگوں کو بڑی دقت محسوس ہوتی ہے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ایک کشتی آئی جس میں بہت سے کشمیری مرد، عورتیں اور بچے بیٹھے ہوئے تھے۔اُس وقت ایک طرف کا پانی اونچا تھا۔انہوں نے کشتی چلانے کے لیے بڑا زور لگایا مگر کشتی نہ چلی۔اس پر کچھ اور آدمی کشتی سے اُترے اور انہوں نے کشتی کو کھینچنا شروع کیا اور ساتھ ہی زور سے نعرہ لگانا شروع کر دیا لایه بل الله لا يله بل الله مگر کشتی نکل نہ سکی ان جب انہوں نے دیکھا کہ لاپله پل الله سے اُن کا کام نہیں بنا تو انہوں نے یا شیخ ہمدانی نعرہ لگایا۔اس پر لوگوں نے پہلے سے بھی زیادہ زور لگانا شروع کر دیا۔مگر پھر ایک لہر آئی اور کشتی رُک گئی تو انہوں نے تیسری دفعہ یا پیر دستگیر کا نعرہ لگایا۔اِس نعرہ کا لگنا تھا کہ اکثر مرد، عورتیں اور بچے گود کر کشتی سے نیچے اُتر آئے اور انہوں نے پاگلوں کی طرح زور لگا نا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ وہ کشتی نکال کر لے گئے۔جس طرح انہوں نے پیر دستگیر کا نعرہ لگایا تھا اُس طرح قوموں کی زندگی میں بھی کبھی غافلوں کو بیدار کرنے اور جماعت میں ایک نئی قوت عمل پیدا کرنے کے لیے نعرہ لگانے کا وقت آ جاتا ہے۔جب کوئی جماعت اپنے مقام کو ضائع