خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 80

$1954 80 خطبات محمود پھر آؤ اور لڑ لو۔جب پٹھان کو اُس نے لڑائی کے لیے خوب تیار کر لیا تو وہ کہنے لگا اس وقت ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے اور وہ یہ کہ اگر میں نے تم کو مار لیا یا تم نے مجھے مار لیاتی تو ہمارے بیوی بچے یتیم رہ جائیں گے۔اُن کو ہمارے بعد کون پالے گا۔اِس کا کوئی علاج ہونا چاہیے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ میں یقیناً تمہیں مار لوں گا۔لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ تمہارے بیوی بچوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔پھر تمہارے مرنے کے بعد ان کو کون پالے گا۔اسی طرح گو یہ ہونا تو نہیں لیکن فرض کرو میں مارا جاؤں تو میرے بیوی بچوں کو کون پالے گا۔کہنے لگا بات تو تم نے ٹھیک کہی ہے لیکن اس کا علاج کیا ہے؟ اُس نے کہا علاج یہی ہے کہ ہو تم اپنے بیوی بچوں کو مار آؤ اور میں اپنے بیوی بچوں کو مار آتا ہوں۔پھر ہماری لڑائی ہے جائے۔پٹھان نے کہا یہ بات ٹھیک ہے۔چنانچہ وہ اپنے بیوی بچوں کو قتل کرنے کے لیے چلا گیا۔یہ اُسی جگہ ادھر اُدھر ٹہلتا رہا۔تھوڑی دیر کے بعد پٹھان آیا اور اُس نے کہا میں تو اپنے تو بیوی بچوں کو قتل کر کے آ گیا ہوں۔اب آؤ اور مجھ سے لڑ لو۔وہ کہنے لگا میری تو اب صلاح بدل گئی ہے اور میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی مونچھیں نیچی کر لوں۔چنانچہ اُس نے اپنی مونچھیں نیچی کر لی تھیں۔اسی طرح تم نے بلا وجہ اپنی مونچھیں نیچی کر لی ہیں۔حالانکہ مونچھیں نیچی کرنے کی بجائے تمہیں چاہیے تھا کہ تم اپنے اندر یہ احساس پیدا کرتے کہ ہم دینی خدمات میں ہمیشہ اوّل رہے ہیں اور اب بھی اول رہیں گے اور اپنے اس مقام کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیں گے۔نوجوانوں کے اندر بڑھنے اور ترقی کرنے کا مادہ ہوتا ہے۔وہ جہاں اور باتوں میں اپنی ترقی کے دعوے کیا کرتے ہیں وہاں اُن کا یہ بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ روحانی رنگ میں بھی اپنے بزرگوں سے آگے نکلنے کی کوشش کریں اور نمازوں میں اور روزوں میں اور چندوں میں اور قربانیوں میں اور اخلاص میں اور سلسلہ کے لیے فدائیت اور جاں شاری میں اپنا قدم ہمیشہ آگے کی طرف بڑھائیں۔میں سمجھتا ہوں اگر اب بھی آپ لوگ توجہ کریں تو اپنے مقام کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں ورنہ تھوڑے دنوں کے بعد ممکن ہے کہ اور بھی کئی جماعتیں تم سے آگے نکل جائیں۔اور جب بہت سی جماعتیں تم سے آگے نکل گئیں تو پھر اتنا بڑا فاصلہ تم میں اور ان میں۔