خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 69

خطبات محمود 69 $1954 مخالفت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔لوگوں کی مخالفت کوئی چیز نہیں جس سے ڈرا جائے۔سینکڑوں لوگ بیعت کرنے کے لیے آتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے بیعت کے لیے کہا ہے اور جس شخص کو خدا تعالی بیعت کے لیے کہہ دے اُس کو اگر کوئی رو کے بھی تو و رک نہیں سکتا۔وہ گزشتہ جلسہ سالانہ پر ایک نوجوان نے بیعت کی۔وہ ایک کر احراری خاندان میں سے تھا۔پہلے تو میں نے خیال کیا کہ وہ جلسہ پر آ گیا ہے اور وقتی جوش کے نتیجہ میں وہ بیعت کرنے لگا ہے لیکن پھر اُس نے تفصیل بتائی کہ بعض احمدیوں نے مجھے سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں جس سے مجھے احمدیت کی طرف رغبت ہوئی اور میں نے خیال کیا کہ احمدی اتنے گندے نہیں جتنا انہیں کہا جاتا ہے۔اس کے بعد جب فتنہ کھڑا ہوا تو میری آنکھیں کھل گئیں اور میں نے خیال کیا کہ یہ کوئی اسلام نہیں جس کا غیر احمدی مظاہرہ کر رہے ہیں۔اگر ان میں اسلام کی روح ہوتی تو وہ اخلاق سے پیش آتے اور اس قدر ظالمانہ فعل نہ کرتے۔چنانچہ ان واقعات کا مجھ پر سخت اثر ہوا اور میں اپنے باپ کے پاس گیا جو کر احراری تھے۔میں نے ان سے کہا عدل، انصاف اور شریعت ان حرکات کی اجازت نہیں دیتی جو آپ لوگ احمدیوں سے کر رہے ہیں۔میری بات سن کر انہوں نے کہا نکل جا گھر سے، تو بے دین ہو گیا ہے۔اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام صرف احمدیت میں ہے۔اس لیے میرا باپ بھی سچی بات کو بُرا مناتا ہے۔اس سے احمدیت کی صداقت مجھ پر کھل گئی اور میں نے بیعت کا پختہ ارادہ کر لیا۔پس جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے نشانات دیکھ لے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسے ایک نور ملتا ہے جس سے اُس کا دل منور ہو جاتا ہے۔بعض لوگوں کو یہ نور نشانات دیکھنے سے پہلے ہی مل جاتا ہے۔اور جس شخص کو یہ نور مل جائے وہ کسی کے گمراہ کرنے ، ورغلانے اور دُکھ دینے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔پچھلی شورش میں بعض ایسے نوجوانوں نے بیعت کی جنہوں نے بتایا کہ ہم دیر سے اس سلسلہ کو اچھا سمجھتے تھے مگر بیعت نہیں کی تھی۔لیکن اب جب ایک بڑا فتنہ احمدیت کے خلاف اُٹھا تو ہم نے خیال کیا کہ امن کے دنوں میں تو شہادت کا موقع نہیں مل سکتا اب ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے اگر ہم احمدیت میں