خطبات محمود (جلد 35) — Page 66
$1954 66 99 خطبات محمود لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی آمد اڑھائی تین سو روپیہ ماہوار ہوتی ہے اور وعدہ تحریک جدید پانچ روپے یا دس روپے ہوتا ہے۔اِس سے اُن کی قربانی کے معیار کا پتا لگتا ہے۔اگر اڑھائی - روپیہ ماہوار آمد والا شخص دس روپے وعدہ لکھاتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ سال میں ایک سو ساٹھ آنے دیتا ہے۔اور ایک سو ساٹھ آنوں کو سال پر تقسیم کیا جائے تو ماہوار تیرہ چودہ آنہ کے درمیان پڑتا ہے۔اور اگر ماہوار تنخواہ اڑھائی سو روپیہ ہو تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ وہ چار پانچ آنہ فی سینکڑہ قربانی کرتا ہے۔لیکن میں نے دفتر والوں کو ہدایت دی ہوئی ہے کہ اگر بڑی آمد والا شخص بھی پانچ روپے وعدہ لکھا دیتا ہے تو تم اس کا انکار نہ کرو۔بعض دفعہ و گھبراتے ہیں اور کہتے ہیں ہم اسے دوبارہ لکھتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں رہنے دو۔اگر کوئی شخص نیکی کی طرف ایک قدم اُٹھاتا ہے تو میرا تجربہ ہے کہ وہ ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔اور یہ تجربہ اتنا لمبا ہے کہ صرف پہلے پانچ روپیہ کے متعلق مجھے فکر ہوتی ہے۔جب کوئی شخص ی پانچ روپیہ دے دیتا ہے تو میں سمجھتا ہوں اب اُس کے نکیل پڑ گئی ہے۔اسے لذت محسوس ہو گی یہی پانچ روپے اگلے سال پچیس یا پچاس روپے بن جائیں گے۔میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ چندہ کے وقت انہوں نے کہا ہم ایک پیسہ ماہوار چندہ دیں گے اور میں نے کہا سے ایک پیسہ ہی لے لو اور انہیں ثواب سے محروم نہ کرو۔پھر انہی لوگوں کو میں نے تین تین، چار چار سو روپے ماہوار دیتے بھی دیکھا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ دلوں کی کیفیت بدل گئی۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست اپنا پورا زور لگائیں گے کہ ہر احمدی تحریک جدید میں حصہ لے لے۔میں نے جو یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ کم سے کم رقم وعدہ کی پانچ روپیہ ہو اس میں بھی حکمت ہے۔اگر چہ میں نے یہ اجازت دے دی ہے کہ اگر کوئی شخص پانچ روپے نہیں دے سکتا ہ تو پانچ آدمی مل کر پانچ روپے دے دیں اور اگر وہ آٹھ آنے دے سکتا ہے تو دس آدمی مل کر پانچ روپے دے دیں۔بلکہ چاہے تو اسی آدمی ایک ایک آنہ دے کر پانچ روپیہ دے دیں لیکن کم سے کم وعدہ جو تحریک جدید میں لیا جائے وہ پانچ روپیہ ہو کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ جب کسی کو لذت حاصل ہو جائے تو اس کے بعد وہ بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھتا ہے۔سوائے