خطبات محمود (جلد 35) — Page 56
$1954 56 56 خطبات محمود کلمہ اُس نے حقارت سے کہا۔اُس مجلس میں ایک صحابی بیٹھے تھے۔انہوں نے یہ بات سنی کی تو کہا تجھے پتا ہے کہ تو ٹنڈا کس کو کہہ رہا ہے اور تجھے پتا ہے کہ وہ ٹنڈا کیسے بنا؟ جنگ اُحد میں ایک موقع پر اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا۔دشمن کے تیروں کا سارا زور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تھا۔کسی شخص کو جرات نہیں تھی کہ ان تیروں کے سامنے کھڑا ہوتا لیکن حضرت طلحہ آگے آئے اور انہوں نے سارے تیر اپنے ہاتھوں پر لیے۔اس کی وجہ سے ان کا ہاتھ ٹنڈا ہو گیا۔آپ تیرانداز تھے۔آپ دشمن پر تیر بھی چلاتے تھے اور جب دشمن کی طرف سے تیر آتے تو آپ انہیں اپنے ہاتھوں پر لیتے۔اس لیے آپ کے اس ہاتھ کا گوشت اور ہڈیاں کچلی گئیں۔اُس صحابی نے کہا اب تجھے پتا لگ گیا کہ ان کا ہاتھ کس طرح ٹنڈا ہو گیا۔اور تو یہ بھی سن لے کہ جب دشمن کے تیرانداز رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تیر پھینکتے تھے تو حضرت طلحہ انہیں اپنے ہاتھ پر روکتے تھے اور جو تیر گرتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں اُٹھاتے۔اور چونکہ اُس وقت طلحہ ہی ایک شخص تھے جو آپ کی حفاظت کر رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیر اُٹھاتے اور طلحہ سے مخاطب ہو کر فرماتے۔طلحہ! تجھ میرے ماں باپ قربان! یہ تیر لے اور دشمن پر چلا 4 جس شخص کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ تجھ پر میرے ماں باپ قربان اُسے تو ٹنڈا کہہ رہا ہے!! غرض اس صحابی نے بتایا کہ جو شخص جنگ کی صفوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرب میں کھڑا ہوتا وہ سب سے زیادہ بہادر کہلاتا تھا۔اس لیے کہ وہ سب سے زیادہ بوجھ اُٹھاتا تھا سو تم بھی کہہ سکتے ہو کہ اس وقت اسلام کی جنگ میں دوسرے ملک اور قومیں اُس کی طرح مالی قربانی نہیں کرتیں جس طرح کی قربانی کے لیے ہمیں کہا جا رہا ہے۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ اُن پر وہ بوجھ نہیں جو ہم پاکستانیوں پر ہے۔لیکن تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کی حفاظت کے لیے حضرت طلحہ کی طرح قربانی کرنے کا جو موقع ہمیں دیا گیا ہے وہ دوسروں کو نہیں دیا گیا۔تم ان دونوں تشریحوں میں سے ایک تشریح کر سکتے ہو۔اگر تمہارا ایمان کمزور ہے تو تم کہہ سکتے ہو کہ ہم پر جتنا بوجھ ہے وہ