خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 49

$1954 49 خطبات محمود صاف بات ہے کہ اُس کی آنکھیں خراب ہیں۔اسی طرح اس قسم کے نشان کے بعد بھی اگر ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق احساس تقریب پیدا نہیں ہوتا ، اگر ہمارا دل خدا تعالیٰ کی کی طرف مائل نہیں ہوتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ چیز تو موجود ہے لیکن ہمارے اندر بیماری ہے۔جیسے صفراء کی وجہ سے انسان میٹھی چیز کو بھی کڑوا محسوس کرتا ہے یا موتیا کی وجہ سے آنکھوں کے ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا۔اسی طرح سارے سامان موجود ہونے کے باوجود ہم ان سے فائدہ اُٹھانے سے محروم ہیں اور اس کا علاج بھی دعا ہی ہے۔درحقیقت دعا پہلے بھی آجاتی ہے اور بعد میں بھی آجاتی ہے۔جب ایسی حالت پیدا ہو جائے تو اس کا علاج بھی دعا ہی ہوتی ہے۔کہتے ہیں کوئی بوڑھا آدمی تھا۔وہ ایک طبیب کے پاس گیا۔وہ اسی نوے سال کی عمر کا تھا۔اس نے طبیب سے کہا مجھے یہ یہ بیماری ہے۔اس کا کوئی علاج بتائیں۔طبیب نے خیال کیا کہ اب اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔اُس نے مریض سے کہا یہ تو تقاضائے عمر ہے۔اس مریض نے خیال کیا کہ باوجود اس کے کہ میں طبیب کے پاس کھڑا ہوں اور اسے اپنی بیماری بھی بتا رہا ہوں لیکن وہ میری طرف متوجہ نہیں ہوا۔تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اسے پوری طرح اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکا۔اس نے پانچ سات اور بیماریاں بتا دیں۔طبیب - کہا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔جب طبیب کو پھر بھی توجہ نہ ہوئی تو اس نے پانچ سات اور بیماریاں بیان کر دیں۔اس پر بھی طبیب نے کہا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔اس پر مریض کو غصہ آگیا اور اُس نے کہا تم بے ایمان اور خبیث انسان کو کس نے طبیب بنایا ہے۔میں بکواس کرتا جا رہا ہوں اور تم یہی کہے چلے جاتے ہو کہ یہ سب تقاضائے عمر ہے۔وہ طبیب دانا تھا۔جب وہ مریض غصہ میں آ گیا تو اُس نے کہا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔تو جس طرح اُس طبیب نے تقاضائے عمر کو ہر جگہ چسپاں کیا تھا اسی طرح ہم اگر سوچیں اور غور کریں تو ہمیں بھی ہر جگہ یہی کہنا پڑتا ہے کہ یہ موقع بھی دعا کا ہے۔اگر پہلے موقع سے ہم نے فائدہ نہیں اُٹھایا تو اسی موقع سے ہی فائدہ اُٹھا لیں کیونکہ جہاں دعا نشان دکھاتی ہے وہاں نشان کے محسوس کرنے کا رستہ بھی دعا ہی کھولتی ہے اور ہمارے ایمان کے رستہ میں جو روک ہو اُسے بھی دعا ہی دور کرتی ہے۔پس ہمیں اس مبارک زمانہ سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔خدا تعالیٰ نے کھڑکیاں کھول دی ہیں