خطبات محمود (جلد 35) — Page 413
1954ء 413 خطبات محمود ن کا ازالہ ہو کہ اس وقت اُن کی آبادی دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی ہے۔ بلکہ اب تو اسلام کو دنیا میں آئے قریباً چودہ سو سال ہو چکے ہیں اور ان چودہ سو سالوں میں ابھی دنیا کی آبادی کا 1/4 حصہ مسلمان ہوا ہے 3/4 حصہ ابھی باقی ہے۔ حالات کی تبدیلی اور مسلمانوں کی غفلت اور سُستی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ایک نیا سلسلہ قائم کیا ہے تا پُرانے فرقوں سے جو سستی اور غفلت ہوئی ہے اُس کا ازالہ ہو جائے اور ان کی جگہ ایک نیا فرقہ لے لے جو اسلام کی اشاعت اور اور تبلیغ کی طرف پہلے فرقوں سے زیادہ توجہ دے، تا پہلی سُستی اور غفلت کا اور دنیا کی آبادی کا بقیہ 3/4 حصہ بھی اسلام کے نور سے حصہ پائے۔ اور یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے لیے جتنی قربانی بھی کی جائے کم ہے۔ خصوصاً ہماری موجودہ تعداد کے لحاظ سے تو یہ کام بہت زیادہ ہے۔ ابھی تک دنیا میں ایک ارب اسی کروڑ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو یا تو اسلام سے متنفر ہیں یا اس کے دشمن ہیں ۔ کم از کم ان میں سے ایک حصہ ایسا ہے کہ جن تک ابھی تک اسلام کے متعلق کوئی بات نہیں پہنچی۔ اب اس ایک ارب اسی کروڑ کو اسلام میں لانے کے لیے چار لاکھ کی جماعت کیا کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بوجھ ہماری جماعت نہیں اُٹھا سکتی۔ لیکن اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ کام آہستہ آہستہ ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کام بھی تدریج چاہتے ہیں تو ہم اپنے اس کام کو اس قدر ممتد کر لیں گے کہ یہ دوصدیوں ، تین صدیوں یا چار صدیوں میں مکمل ہو جائے۔ اور اگر ہم نے لازمی طور پر اس کام کو ممتد کرنا ہے اور اسے ہماری موجودہ نسل نے پورا نہیں کرنا تو لازمی طور پر اسے ہماری آئندہ نسلوں نے کرنا ہے۔ اور اگر نوجوانوں میں اخلاص، قربانی اور ایثار کم ہو تو ہماری یہ امید بھی موہوم ہو جاتی ہے۔ میں ”موہوم کا لفظ بولنے سے ڈرتا ہوں کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس نے بہر حال ہونا ہے لیکن چونکہ اُس نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے اس لیے ہمیں سوچنا پڑے گا کہ یہ کام ہم سے ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اور چونکہ ہماری امیدیں موہوم ہیں اور بظاہر اس میں کامیاب ہونا مشکل نظر آتا ہے اس لیے ہمارے لیے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ہم کہیں کہ اگر ہماری آئندہ نسلیں چست ہوں تو کام کی رفتار میں تیزی پیدا ہو سکتی ہے۔ پس جماعت کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو