خطبات محمود (جلد 35) — Page 412
$1954 412 خطبات محمود کام کرنے والوں کو جو تشویش ہے وہ دور ہو جاتی۔جہاں تک وعدوں کا سوال تھا گزشتہ سال ای کے وعدے پورے سال کے بوجھ کو اُٹھا سکتے تھے جو روز بروز بڑھ رہا ہے اور موجودہ تشویش باقی نہیں رہتی تھی۔اب بھی دوستوں کو چاہیے کہ جو لوگ ابھی تک تحریک جدید میں شامل نہیں ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے اور اُن سے وعدے لے کر مرکز میں بھجوائیں۔پھر ان کی وصولی پر زور دیں۔یہ نہ ہو کہ سال ختم ہونے پر ہم کچھ مالی بوجھ اپنے ساتھ جائیں۔تین چارسال سے یہی ہو رہا ہے کہ سال ختم ہونے پر کچھ نہ کچھ مالی بوجھ ساتھ جاتے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اخراجات کم تھے اب چونکہ ہمارے مشن بہت زیادہ وسیع ہو گئے ہیں اس لیے اخراجات پہلے کی نسبت زیادہ ہیں اور ہمارا بجٹ ہر سال تمہیں چالیس ہزار روپے کے خسارہ سے شروع ہوتا ہے۔یہ خسارہ وعدوں میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ وعدوں کی عدم وصولی کی وجہ سے ہوتا ہے۔اگر دوست بقائے وصول کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف سالانہ بجٹ میں خسارہ نہ دکھایا جائے بلکہ ہر سال کچھ نہ کچھ رقم پس انداز ہوتی جائے۔جیسا کہ میں نے پچھلے خطبات میں بتایا تھا ہمارے نوجوانوں میں زیادہ کمزوری پائی جاتی ہے۔اور دفتر دوم کے وعدوں کی وصولی کی رفتار بہت کم ہے۔میں نے آج اندازہ لگایا۔کہ سال ختم ہو چکا ہے لیکن ابھی تک پچاس فیصدی وعدے وصول نہیں ہوئے۔حالانکہ اس سے پہلے دور اول میں یہ ہوتا تھا کہ اگر وعدے ایک لاکھ کے ہوئے ہیں تو سال کے اختتام پہلے ایک لاکھ سے زائد رقم وصول ہو جاتی تھی۔پس نوجوانوں میں ہمت اور اخلاص پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کی طرف مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی۔اس کا قیام اس بات کا موجب ہونا چاہیے کہ نوجوانوں میں اخلاص اور جوش زیادہ ہو۔قومیں اگر ترقی کرتی ہیں تو انہی آئندہ نسلوں کے ذریعہ کرتی ہیں۔اگر ایک نسل اپنا بوجھ اُٹھائی لیتی ہے تو وہ کام ایک حد تک ہو جاتا ہے۔اگر وہ کام وقتی ہوتا ہے تو کوئی تشویش کی بات نہیں ہوتی کیونکہ انہوں نے اپنا بوجھ اُٹھا لیا ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ کام وقتی نہیں ہوتا بلکہ اُس نے قیامت تک جانا ہوتا ہے تو بہر حال وہ کام اگلی نسلوں کے ذریعہ پورا ہو گا۔دنیا بھر کو اسلام سے روشناس کرانا معمولی امر نہیں۔تیرہ سو سال میں مسلمانوں نے اس قدر کامیابی حاصل کی