خطبات محمود (جلد 35) — Page 32
1954ء 32 خطبات محمود سمجھا کہ مہاجرین بول لیں کیونکہ وہ لوگ ان کے اپنے بھائی بند ہیں ۔ لیکن يَا رَسُولَ الله آپ کے بار بار مشورہ پر زور دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار بھی بولیں ۔ اور شاید حضور کا مشورہ طلب کرنے سے اُس معاہدہ کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت سے قبل آپ کے اور انصار کے درمیان ہوا۔ آپ نے فرمایا یہ درست ہے۔ وہی معاہدہ میرے مدنظر تھا۔ اس پر انصاری رئیس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! جب ہم نے وہ شرط کی تھی کہ ہم مدینہ کے اندر رہ کر دشمن سے مقابلہ کریں گے مدینہ سے باہر لڑائی کی صورت میں ہم آپ کی مدد کے ذمہ دار نہ دار نہیں ہوں گے اُس وقت ہمیں پتا نہیں تھا کہ آپ ہیں کیا ۔ آپ کی شان ہم پر واضح نہیں تھی۔ صرف بعض صداقتیں دیکھ کر ہم آپ پر ایمان لے آئے ۔ آپ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ میں ہم آپ کی مجلسوں میں بیٹھے اور ہمیں پتا لگا کہ آپ کی شان کیا ہے۔ اب وہ معاہدہ کوئی حیثیت نہیں کھتا۔ اب آپ کی شان ہمیں معلوم ہو چکی ہے۔ اب يَا رَسُولَ الله ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آپ تک پہنچے تو پہنچے اس سے پہلے نہیں پہنچ سکتا۔ پھر اُس انصاری رئیس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! سامنے (دو تین منزل پر ) سمندر ہے۔ لڑائی تو الگ رہی آپ ہمیں حکم, م دیں کہ تم سب اس سمندر میں گود جاؤ تو ہم بلا سوچے سمجھے اس میں اپنی سواریاں ڈال دیں گے۔ تو دیکھو! وہ بھی ایک معاہدہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے ہجرت سے قبل کیا تھا۔ میں نے تو تم سے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انصار نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ مدینہ سے باہر جا کر دشمن کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ خدا تعالیٰ نے سمجھا کہ اگر ابھی سے انہیں کہہ دیا گیا کہ تمہیں دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا تو یہ لوگ ڈر نہ جائیں۔ جب ان پر حقیقت کھل جائے گی تو یہ لوگ خود لڑیں گے۔ اسی طرح جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا تو وہ تمہاری کمزوری کا وقت تھا۔ اگر اُس وقت میں یہ کہہ دیتا کہ یہ تحریک قیامت تک کے لیے ہے تو شاید اکثر ہمت سے کام نہ لیتے اور اس میں حصہ لینے سے محروم رہتے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری زبان سے پہلے تین اور دس اور پھر انیس کا لفظ نکلوا دیا۔ ☆ اصل مسودہ میں اس جگہ دو الفاظ پڑھے نہیں جاسکے۔