خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 407

$1954 407 خطبات محمود میں لانے کی کوشش نہیں کی حالانکہ بیسیوں آدمی ایسے ہیں جو یہاں آکر تمام حالات کے جب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں میں دھوکا، فریب یا کپٹ 6 نہیں۔ان کی باتیں غور کے قابل ہیں اور پھر جب وہ علیحدگی میں ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو احمدیت کو قبول کر لیتے ہیں۔لیکن جب تک وہ مرکز سے دور رہتے ہیں اُن کے دلوں میں کئی قسم کے شبہات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔بعض دفعہ ایک بھائی مصافحہ کے لیے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تو دوسرا سمجھتا ہے کہ وہ ڈنڈا مارنے لگا ہے اور یہ آپس میں میل ملاپ نہ ہونے سے ہوتا ہے۔وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو دیکھ لو اُن کی ہمیشہ لڑائیاں ہوتی تھیں۔اگر وہ اطمینان سے آپس میں تبادلہ خیالات کرتے رہتے تو یہ لڑائیاں ختم ہو جاتیں۔اوروں کو جانے دو کی ہم مسلمانوں میں بھی بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔شیعہ سنیوں کو بُرا کہتے ہیں، شیعوں کو بُرا کہتے ہیں۔یہی دوسرے فرقوں کا حال ہے حالانکہ ہر مذہب اور ہر فرقہ میں نیک سے نیک آدمی ہو سکتے ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے عیسائیوں میں سے بعض لوگ اس قدر نیک ہیں کہ جب وہ خدا تعالیٰ کا ذکر سنتے ہیں تو اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگی جاتے ہیں۔اب عیسائیوں کا خدا تعالیٰ سے کوئی خاص رشتہ نہیں۔جس طرح اُن میں نیک لوگ پائے جاتے ہیں اسی طرح ہندوؤں اور یہودیوں میں بھی نیک لوگ پائے جاتے ہیں۔اور مسلمانوں میں تو نیک لوگوں کی تعداد دوسرے مذاہب سے بہت زیادہ ہونی چاہیے۔اگر یہودیوں، ہندوؤں اور عیسائیوں میں سو میں سے دس آدمی خدا تعالی کا ای خوف رکھنے والے ہوں تو مسلمانوں میں ساٹھ ستر آدمی خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہونے چاہیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے پر محبت کا دروازہ نہیں کھولتے۔وہ آپس میں لڑائیاں اور جھگڑے کرتے رہتے ہیں اور اس سے وہ روز بروز ایک دوسرے اپنے سے دور ہو تے جاتے ہیں۔پس تم جلسہ سالانہ کے ایام سے فائدہ اُٹھاؤ اور ا۔غیر احمدی رشتہ داروں اور دوستوں کو یہاں لاؤ۔اور خود بھی ان ایام سے فائدہ اُٹھاؤ اور انہیں بھی سمجھاؤ کہ وہ وقت کا صحیح استعمال کریں۔پھر یہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ