خطبات محمود (جلد 35) — Page 402
$1954 402 خطبات محمود امور عامہ والے دکانیں بند کراتے جاتے ہیں اور دوسری طرف دکانیں کھلتی جاتی ہیں۔طریق دھینگا مشتی اور آنکھ مچولی کا ہے۔اس سے دیکھنے والوں پر بُرا اثر پڑتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دنیا دار لوگ ہیں دین کا یونہی نام لیتے ہیں۔لیکن یہ بھی زیادتی ہو گی اگر جلسہ گاہ کے پاس کھانے پینے کی چند دکانیں نہ ہوں۔ایسی بعض دکانوں کا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ضرورت مند اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔پھر اس دفعہ ایک شکایت یہ بھی آئی ہے کہ جلسہ سالانہ کا تقریری پروگرام بہت لمبا ہوتا ہے اور لوگ اتنا لمبا پروگرام نہیں سن سکتے۔کچھ وقت آرام کے لیے بھی ہونا چاہیے۔اس کا طریق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تقریریں چھوٹی کر دی جائیں اور اس طرح کچھ وقت آرام کے لیے نکال لیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک تقریر آپ کی ہوتی تھی اور ایک آدھ تقریر کسی اور عالم کی ہو جاتی تھی۔باقی جہاں مہمان ٹھہرے ہوئے ہوتے تھے وہاں عادی لیکچرار پہنچ جاتے تھے اور تقریریں کر آتے تھے ورنہ دن کا اکثر حصہ خالی رہتا تھا۔لیکن ہمارے ہاں ایسا طریق جاری ہو گیا ہے کہ ہم لوگوں کو سارا دن مشغول رکھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چالیس فیصدی لوگ جلسہ گاہ سے باہر پھرتے رہتے ہیں۔لکھنے والوں نے تو بہت مبالغہ سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ ساٹھ فیصدی لوگ باہر پھرتے رہتے ہیں۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ بیس فیصدی یا چالیس فیصدی لوگ جلسہ گاہ سے باہر آ جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اتنے لمبے پروگرام کو برداشت نہیں کر سکتے۔اب جس پر خدا تعالی کی طرف سے ذمہ داری عائد ہے اُس نے تو لازمی طور پر تقریر کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت آپ کی تقریر لازمی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الاول کے زمانہ میں آپ کی تقریر لازمی تھی اور اب میری تقریر لازمی ہے۔باقی پروگرام محض ضمنی ہوتا تو ہے۔پس پروگرام اس شکل میں بنانا چاہیے کہ لوگوں پر بوجھ نہ ہو۔اس دفعہ چھوٹی تقریریں رکھی گئی تھیں لیکن مقررین نے شور مچا دیا کہ ہمیں وقت تھوڑا دیا گیا ہے۔اگر لمبی تقریریں ضروری ہوں تو پھر صرف چند تقاریر ہو جائیں ( اور ضروری نہیں کہ ہر جلسہ پر اُس شخص کی تقریر ہو جس کی تقریر ایک دفعہ رکھی جا چکی ہے۔باری باری مختلف جلسوں میں مختلف لوگوں کی تقریر