خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 391

$1954 391 خطبات محمود جائے۔لیکن اگر کسی قوم کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ ہمیشہ جوان رہے تو اگر وہ کوئی کمزوری نہ دکھائے تو وہ فی الواقع جوان ہی رہتی ہے۔لیکن انسانی زندگی کے متعلق یہ کہنا کہ کوئی جوان ہی رہے بددعا بن جاتی ہے۔ایک دفعہ اسی قسم کا ذکر چھڑ گیا تو میں نے بتایا کہ بلغاریہ کے لوگ بڑے تنومند اور مضبوط جسم والے ہوتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ وہ ایک قسم کی دہی تیار کرتے ہیں۔اُس دہی کا وہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔اس لیے وہ بڑے تنومند اور مضبوط ہوتے ہیں۔پاس ہی ایک زمیندار دوست تھا۔وہ بڑا خوش ہوا اور کہنے گا میرا بھی یہ تجربہ ہے کہ جو شخص التزاماً دہی استعمال کرے وہ بوڑھا نہیں مرتا۔اس پر دوسرے لوگوں نے اُس سے مذاق کرنا شروع کر دیا کہ تمہارا یہ فقرہ کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اُس کا تو یہ مطلب ہے کہ دہی کھانے والے جوانی کی عمر ہی میں مر جاتے ہیں بوڑھا ہونے کی نوبت ہی نہیں آتی۔پس جسمانی زندگی میں ایک جوان کا بوڑھا ہونا ضروری ہے۔لیکن روحانی زندگی میں ضروری نہیں کہ کوئی قوم بوڑھی ہو۔اگر کوئی قوم قربانی کرے اور اپنا معاملہ خدا تعالیٰ سے درست رکھے تو اُس پر ہمیشہ جوانی کی عمر رہتی ہے بڑھاپا محض اس کی کمزوری کی وجہ سے آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ 11 کہ ہم جسمانی بڑھاپا تو ضرور لاتے ہیں لیکن روحانی بڑھاپا کسی قوم پر صرف اس وقت لاتے ہیں جب وہ خود بڑھاپا چاہتی ہے۔پس روحانی جوانی کو تم سینکڑوں، لاکھوں بلکہ کروڑوں سال تک بھی قائم رکھ سکتے ہو اور اس کا نمونہ موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگلے جہان میں جو جنت ملے گی اُس میں کوئی بوڑھا نہیں ہو گا۔12 یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کوئی قوم روحانی طور پر جوان رہنا چاہتی ہے تو اُس پر بڑھا پا نہیں آتا۔پس اگر تم جوان رہنا چاہتے ہو تو تمہیں ہر روز اپنی قربانی بڑھانی گی۔اگر تمہیں ایسا کرتے ہوئے بشاشت محسوس نہیں ہوتی تو تم خدا تعالیٰ کی خاطر بناوٹ کے طور پر ہی اپنی قربانی کو بڑھاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے تو اگلے سال تمہیں سچے دل سے خدا کی خاطر قربانی کرنے کی توفیق مل جائے گی۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ تم اپنی کی