خطبات محمود (جلد 35) — Page 390
خطبات محمود وہ بھی ثواب کا موجب ہوتا ہے۔ 390 1954ء پس میں جماعت کے احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور زیادہ سے زیادہ وعدے لکھا ئیں اور پھر انہیں جلد پورا کریں۔ اسی طرح نئے نئے لوگوں کو تحریک کر کے اس تحریک میں شامل کریں۔ تمہارا چندہ ہر سال پہلے سے زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ تمہارا کام ہر سال بڑھے گا۔ جیسے پانچ چھ سال کے لڑکے کا لباس بڑی عمر والے آدمی کو پورا نہیں آتا اسی طرح تمہاری اس سال کی قربانی اگلے سال کام نہیں آسکتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بڑھا رہا ہے۔ جس طرح ایک بچہ بڑھتا جاتا ہے اور اس کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ وہ بڑھنے کو تی روک سکے اسی طرح تم پر بھی وہ دور آیا ہوا ہے۔ قانونِ قدرت تمہیں بڑھا رہا ہے ۔ پس تمہاری آج کی قربانی کل کے کام نہیں آئے گی کیونکہ تمہارا قدم لازماً آگے بڑھے گا اور تمہیں اپنی قربانی بھی لازماً بڑھانی پڑے گی۔ اگر تم اپنی قربانی کو بڑھاتے نہیں تو تمہاری حالت مضحکہ خیز بن جائے گی۔ اگر چھ سال کے بچے کا لباس بڑی عمر والا پہن لے تو کیا تم اس پر ہنسو گے یا نہیں؟ اگر تم یہ دیکھو کہ اٹھارہ سال کا نوجوان جو کرکٹ کا کھلاڑی ہے وہ چوسنی منہ میں لیے پھر رہا ہے تو تم اُس پر ہنسو گے یا نہیں؟ اگر تم دیکھو کہ ایک ٹیم کا کپتان جھنجھنا 10 ہلانا شروع کر دیتا ہے تو تم اُس پر ہنسو گے یا نہیں؟ اگر تم کسی اُستاد کو دیکھو کہ وہ گڑیا اُٹھائے پھرتا ہے تو تم اس پر ہنسو گے یا نہیں؟ اگر اسی طرح تمہیں دنیا دیکھے گی کہ تمہارا کام خدا تعالیٰ نے بڑھا دیا ہے لیکن قربانی تمہاری کل والی ہے تو وہ تم پر ہنسے گی یا نہیں؟ تم اپنی حالت پر قیاس کر لو کہ تم دوسروں کو بے جوڑ لباس پہنے دیکھ کر اُن کے متعلق کیا خیال کرتے ہو۔ پھر تمہارے متعلق دوسرے لوگ کیا خیال کریں گے؟ خدا تعالیٰ تمہارے متعلق کیا خیال کرے گا؟ کیا تم ، دونوں کی نظروں میں بے جوڑ نہیں بن جاتے؟ اور پھر یہ زمانہ تو تمہارے بڑھنے اور ترقی کرنے کا ہے۔ جسمانی طور پر اگر جوانی کا زمانہ آتا ہے تو لازماً اس کے بعد بڑھاپا آتا ہے۔ لیکن روحانی طور پر یہ زمانہ تمہارے لیے اس قدر مبارک ہے کہ اگر تم یہ دعائیں کرتے رہو کہ تم بوڑھے نہ بنو تو تمہارا جوانی کا زمانہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ اگر جسمانی طور پر کوئی یہ کہے کہ میں جوان ہی رہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بوڑھا نہ ہو اور جوانی کی عمر میں ہی مر